خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 136
خطبات مسرور جلد 17 136 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 مارچ 2019 خونریزی کی وجہ سے جو نقصان پہنچا ہے اس سے دشمن ان پر دلیر ہو گئے ہیں تو حضرت عمرؓ نے ان کو فرمایا کہ شاید آپ اپنے اوپر لگی ہوئی شکست کی بدنامی کا داغ دھو سکیں کیونکہ یہاں یعنی جنگ جسر سے واپس آئے تو مسلمانوں کو نقصان ہوا تھا تو حضرت عمرؓ نے آپ کو کہا کہ اگر اس بدنامی کا، شکست کا داغ دھونا ہے تو وہاں شام کی طرف بھی جنگ ہو رہی ہے۔حضرت سعد نے عرض کیا نہیں۔میں سوائے اس زمین کے اور کہیں نہیں جاؤں گا جہاں سے میں بھاگا ہوں یا ناکام واپس آیا ہوں اور ان دشمنوں کے مقابل پر ہی نکلوں گا جنہوں نے میرے ساتھ جو کرنا تھا کیا۔یعنی مراد یہ تھی کہ لڑائی میں وہ غالب آگئے۔چنانچہ حضرت سعد بن عبید وہ قادسیہ آئے اور وہاں لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔عبدالرحمٰن بن ابولیلی روایت کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبید نے لوگوں سے وعظ کیا اور کہا کہ کل ہم دشمن کا مقابلہ کریں گے اور کل ہم شہید ہوں گے۔لہذا تم لوگ نہ ہمارے بدن سے خون دھونا اور نہ سوائے ان کپڑوں کے جو ہمارے بدن پر ہیں، کوئی اور کفن دینا۔(الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 349 سعد بن عبيد دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) (اسد الغابة فى معرفة الصحابة جلد 2 صفحه 445 سعد بن عبيد دار الكتب العلمية بيروت 2003ء) (الاصابة في تمييز الصحابه جلد 3 صفحه 57 سعد بن عبيد دار الكتب العلمية بيروت 1995ء) جنگ جسر کی کچھ تفصیل ایک گزشتہ خطبہ میں بھی میں نے بیان کی تھی۔اس حوالے سے کچھ اور تھوڑا بیان کر دیتا ہوں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ جنگ جسر 13 ہجری میں دریائے فرات کے کنارے مسلمانوں اور ایرانیوں کے درمیان لڑی گئی تھی اور مسلمانوں کی طرف سے لشکر کے سپہ سالار حضرت ابو عبید ثقفی یہ تھے جبکہ ایرانیوں کی طرف سے بہمن جادویہ سپہ سالار تھا۔مسلمان فوج کی تعداد دس ہزار تھی جبکہ ایرانیوں کی فوج میں تیس ہزار فوجی اور تین سو ہا تھی تھے۔دریائے فرات کے درمیان حائل ہونے کی وجہ سے یعنی بیچ میں دریائے فرات آگیا تھا اس وجہ سے دونوں گروہ کچھ عرصہ تک لڑائی سے رکے رہے یہاں تک کہ فریقین کی باہمی رضامندی سے فرات پر جسر یعنی ایک پل تیار کیا گیا۔اسی پل کی وجہ سے اس کو جنگ جسر کہا جاتا ہے۔جب پل تیار ہو گیا تو بمَن جَادُوَیہ نے حضرت ابو عبید و ان کو کہلا بھیجا کہ تم دریا عبور کر کے ہماری طرف آؤ گے یا ہمیں عبور کرنے کی اجازت دو گے۔حضرت ابوعبید اللہ کی رائے تھی کہ مسلمانوں کی فوج دریا عبور کر کے مخالف گروہ سے جنگ کرے جبکہ لشکر کے سردار جن میں حضرت سلیط یہ بھی تھے اس رائے کے خلاف تھے لیکن حضرت ابوعبید اللہ نے دریائے فرات کو عبور کر کے اہل فارس کے لشکر پر حملہ کر دیا۔تھوڑی دیر تک لڑائی ایسے ہی چلتی رہی۔کچھ دیر بعد بهُمَن جَادُویہ نے اپنی فوج کو منتشر ہوتے دیکھا۔دیکھا کہ ایرانیوں کی فوج پیچھے ہٹ رہی ہے تو اس نے ہاتھیوں کو آگے بڑھانے کا حکم دیا۔ہاتھیوں کے آگے بڑھنے سے مسلمانوں کی صفیں بے ترتیب ہو گئیں ، اسلامی لشکر ادھر ادھر ہٹنے لگا۔حضرت ابو عبید اللہ نے مسلمانوں کو کہا کہ اے اللہ کے بندو! ہاتھیوں پر حملہ کرو اور ان کی سونڈیں کاٹ ڈالو۔حضرت ابو عبید اللہ یہ کہہ کر خود آگے بڑھے اور ایک ہاتھی پر حملہ کر کے اس کی سونڈ کاٹ ڈالی۔باقی لشکر نے بھی یہی دیکھ کر تیزی سے لڑائی شروع کر دی اور کئی ہاتھیوں کی سونڈیں اور پاؤں کاٹ کر ان کے سواروں کو قتل کر دیا۔اتفاق سے حضرت ابوعبید اللہ ایک ہاتھی کے سامنے آئے۔