خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 135 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 135

خطبات مسرور جلد 17 135 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 مارچ 2019 کے عہد خلافت میں 12 ہجری میں ہوئی تھی جس میں آپ کو ایک تیر لگا جس کی وجہ سے بعد میں آپ کی وفات ہوئی۔آپ کی عمر 30 سال سے کچھ اوپر تھی۔(طبقات الكبرى جلد 3 صفحه 307 السائب بن عثمان بن مظعون - دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) الله اگلے صحابی جن کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت ضمرہ بن عمر و جھلی۔حضرت ضمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد کا نام عمر و بن عدیتی تھا اور بعض آپ کے والد کا نام بشر بھی بیان کرتے ہیں۔آپ قبیلہ بنو طَرِیف کے حلیف تھے جبکہ بعض کے نزدیک قبیلہ بنو ساعدہ کے حلیف تھے جو کہ سعد بن عبادہ کا قبیلہ تھا۔حلیف یعنی ان کا آپس میں ایک معاہدہ تھا کہ جب بھی کسی کو ضرورت پڑے گی ایک دوسرے کی مدد کی تو ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔علامہ ابن اثیر اسد الغابہ میں تحریر کرتے ہیں کہ یہ کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ بنو ظریف بنو ساعِدہ کی ہی ایک شاخ ہے۔حضرت ضمر ہا غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شریک ہوئے۔غزوہ احد میں آپؐ شہید ہوئے۔(اسد الغابه جلد 3 صفحه 60-661 ضمرة بن عمرو الجهني دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) الله پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت سعد بن سھیل ا۔حضرت سعد انصار میں سے تھے۔بعض نے آپ کا نام سعید بن سهیل والے بیان کیا ہے۔حضرت سعد غزوہ بدر اور اُحد میں شریک ہوئے۔آپ کی ایک بیٹی تھی جس کا نام ھزیلہ تھا۔(اسد الغابة فى معرفة الصحابة جلد 2 صفحه 439 سعد بن سهيل دار الكتب العلمية بيروت 2003ء) (الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحه 395 سعيد بن سهيل دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) ان کا ذکر بس اتنا ہی ملتا ہے۔پھر حضرت سعد بن عبید ، صحابی ہیں جو بدری صحابی تھے۔ان کا ذکر کرتا ہوں۔حضرت سعد بن عبید غزوۂ بدر، احد، خندق سمیت تمام غزوات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے۔آپ کا نام سعید بھی بیان ہو اہے۔آپؐ قاری کے لقب سے مشہور تھے۔آپؐ کی کنیت ابوزید تھی۔حضرت سعد بن عبید کا شمار ان چار اصحاب میں ہوتا ہے جنہوں نے انصار میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں قرآن جمع کیا تھا۔آپؐ کے بیٹے عمیر بن سعد حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں شام کے ایک حصہ کے والی تھے۔ایک روایت کے مطابق حضرت سعد بن عبید اللہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد قبا میں امامت کرتے تھے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں بھی اس امامت پر مامور تھے۔حضرت سعد بن عبید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہجرت کے سولھویں سال جنگ قادسیہ میں شہید ہوئے۔شہادت کے وقت آپ کی عمر 64 سال تھی۔عبد الرحمن بن ابولیلیٰ سے روایت ہے کہ جنگ جسر جو 13 ہجری میں ہوئی اس میں مسلمانوں کو کافی نقصان ہوا تھا۔حضرت سعد بن عُبید شکست کھا کر واپس آئے، پیچھے ہٹ گئے تھے تو حضرت عمرؓ نے حضرت سعد بن عبید سے فرمایا کہ ملک شام میں جہاد سے دلچسپی ہے ؟ سوال پوچھا۔وہاں مسلمانوں سے شدید خونریزی کی گئی ہے۔مسلمانوں کو بڑا نقصان پہنچایا گیا ہے۔اگر تمہیں شوق ہے تو پھر وہاں چلے جاؤ اور دشمن کی اس