خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 134
خطبات مسرور جلد 17 134 11 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 مارچ 2019 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 15 / مارچ 2019ء بمطابق 15 رامان 1398 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج جن صحابہ کا میں ذکر کروں گا ان میں سے پہلا نام ہے حضرت سائب بن عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ان کا تعلق قبیلہ بنو مجمع سے تھا اور آپ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے تھے۔آپ کی والدہ کا نام حضرت خولہ بنت حکیم تھا اور ابتدائے اسلام میں ہی، شروع میں ہی آپ مسلمان ہوئے تھے۔حضرت سائب بن عثمان اللہ اپنے والد اور چا حضرت قدامہ اللہ کے ہمراہ حبشہ کی طرف ہجرت ثانیہ میں شریک تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت مدینہ کے بعد حضرت سائب بن عثمان ، اور حارثہ بن سراقہ انصاری کے درمیان مواخات قائم فرمائی تھی۔ان کا ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تیر انداز صحابہ میں کیا جاتا ہے۔حضرت سائب بن عثمان غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق اور دیگر غزوات میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے۔(اسد الغابة جلد 2 صفحه 36-37 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) (طبقات الكبرى جلد 3 صفحه 306-307 دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) غزوہ بواط میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو مدینہ کا امیر مقرر فرمایا تھا۔غزوہ بواط جو 2 ہجری میں ہوئی ہے اس کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ ربیع الاول کے آخری ایام یار بیع الثانی کے شروع میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کی طرف سے کوئی خبر موصول ہوئی جس پر آپ مہاجرین کی ایک جماعت کو ساتھ لے کر خود مدینہ سے نکلے اور اپنے پیچھے سائب بن عثمان بن مظعون کو مدینہ کا امیر مقرر فرمایا۔لیکن قریش کا پتہ نہیں چل سکا اور آپ بُواط تک پہنچ کر واپس تشریف لے آئے۔(الاصابه جلد 3 صفحه 20 سائب بن عثمان مطبوعه دارالکتب العلميه بيروت 1995ء) (ماخوذ از سیرت خاتم النبیین صلی یا کم از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ 329) الله سة بواط مدینہ سے قریباً اڑتالیس میل کے فاصلے پر قبیلہ جھینہ کے پہاڑ کا نام ہے۔(سبل الهدى جلد 4 صفحه 15 باب فى غزوه بواط مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1993ء) حضرت سائب بن عثمان اللہ جنگ یمامہ میں شامل تھے۔جنگ یمامہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ