خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 133
خطبات مسرور جلد 17 133 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 مارچ2019 بڑی احتیاطیں کرنے کے " وہ جمع کرنے کا وقت تھا لیکن اب نظر اور غور کرنے کا وقت ہے۔" دیکھو اور غور کرو۔کوئی حدیث قرآن کریم یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت اور تقدس سے ٹکراتی ہے تو وہ رڈ کرنے کے لائق ہے یا اس کی کچھ اور تشریح ہے جس طرح حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے کی یا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ " آثار نبی جمع کرنا بڑے ثواب کا کام ہے۔نبیوں کی زندگی کے حالات جمع کرنا ثواب کا کام ہے۔ان کی باتیں جمع کرنا ثواب کا کام ہے۔"لیکن یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جمع کرنے والے خوب غور سے کام نہیں لے سکتے۔اب ہر ایک کا اختیار ہے کہ خوب غور اور فکر سے کام لے۔جو ماننے والی ہو وہ مانے اور جو چھوڑنے والی ہو وہ چھوڑ دے۔ایسی بات کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ( معاذ اللہ ) جادو کا اثر ہو گیا تھا اس سے تو ایمان اٹھ جاتا ہے۔" آپ فرماتے ہیں کہ "خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِذْ يَقُولُ الظَّلِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا (بنی اسرائیل: 48) کہ جب ظالم لوگ کہتے ہیں کہ تم محض ایک ایسے شخص کی پیروی کر رہے ہو جو سحر زدہ ہے۔جس پر جادو ہوا ہوا ہے۔جادو کے زیر اثر ہے۔" ایسی ایسی باتیں کہنے والے تو ظالم ہیں نہ مسلمان۔یہ تو بے ایمانوں اور ظالموں کا قول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ( معاذ اللہ ) سحر اور جادو کا اثر ہو گیا تھا اتنا نہیں سوچتے کہ جب (معاذ اللہ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حال ہے تو پھر امت کا کیا ٹھکانہ ؟ وہ تو پھر غرق ہو گئی۔معلوم نہیں ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ جس معصوم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاء مش شیطان سے پاک سمجھتے آئے ہیں یہ ان کی شان میں ایسے ایسے الفاظ بولتے ہیں۔" ( ملفوظات جلد 9 صفحہ 471-472) الحمد للہ کہ ہم زمانے کے امام کو مان کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبہ کو بھی سمجھنے والے ہیں، پہچاننے والے ہیں۔اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَ بَارِكْ وَسَلِّمْ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ (الفضل انٹر نیشنل مورخہ 22 م / مارچ 2019ء تا 29 / مارچ 2019ء ( خصوصی اشاعت) جلد 26 شماره 12-13 صفحہ 13 تا17)