خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 132 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 132

خطبات مسرور جلد 17 132 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 مارچ2019 ہے۔اور خود سرور کائنات افضل الرسل گا ارفع مقام سحر والے قصہ کے تار پود بکھیر رہا ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ یہ بھی خالی از فائدہ نہ ہو گا کہ جیسا کہ حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس وقت ان کی زندگی کی بات کر رہے ہیں کی روایت ہے۔اس روایت کے مطابق سیرۃ المہدی کے حصہ اول کی روایت نمبر 75 میں مذکور ہے کہ ایک دفعہ ایک متعصب ہندو جو گجرات کا رہنے والا تھا قادیان آیا تھا۔اور وہ علم توجہ یعنی ہپناٹزم کے سحر کا بڑا ماہر تھا۔اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں حاضر ہو کر آپ پر خاموشی کے ساتھ توجہ ڈالنا شروع کی تاکہ آپ سے بعض نازیبا حرکات کرا کے آپ کو لوگوں کی ہنسی کا نشانہ بنائے مگر جب آپ نے اس پر توجہ ڈالی تو وہ چیخ مار کر بھاگا۔اور جب اس سے پوچھا گیا کہ تمہیں یہ کیا ہوا تھا تو اس نے جواب دیا کہ جب میں نے مرزا صاحب پر توجہ ڈالی تو مجھے یوں نظر آیا کہ میرے سامنے ایک خوفناک شیر کھڑا ہے جو مجھ پر حملہ کرنے والا ہے اور میں اس سے ڈر کر بھاگ نکلا ہوں۔تو آپ لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہیں ، جب خادم کا یہ مقام ہے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے ہیپناٹزم کا اثر نہیں ہونے دیا تو آقا کے متعلق یہ خیال کرنا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ خیال کرنا کہ آپ نعوذ باللہ ایک یہودی کے ہپناٹزم کا نشانہ بن گئے تھے یہ کس طرح قبول کیا جاسکتا ہے۔(ماخوذ از مضامین بشیر جلد 3 صفحه 642 تا 653 مضامین 1959ء) آخر میں زمانے کے حکم اور عدل کے اس بارے میں ارشادات پڑھ دیتا ہوں جو سب وضاحتوں اور تشریجوں پر حاوی ہیں۔ایک شخص نے آپ کی مجلس میں سوال کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کافروں نے جو جادو کیا تھا اس کی نسبت آپ کا کیا خیال ہے ؟ حضرت اقدس نے فرمایا کہ "جادو بھی شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔رسولوں اور نبیوں کی یہ شان نہیں ہوتی کہ ان پر جادو کا کچھ اثر ہو سکے۔بلکہ ان کو دیکھ کر جادو بھاگ جاتا ہے جیسے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ آئی (طه:70) دیکھو حضرت موسی کے مقابل پر جادو تھا آخر موسی غالب ہوا کہ نہیں ؟ یہ بات بالکل غلط ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ پر جادو غالب آگیا۔ہم اس کو کبھی نہیں مان سکتے۔آنکھ بند کر کے بخاری اور مسلم کو مانتے جانا یہ ہمارے مسلک کے بر خلاف ہے۔یہ تو عقل بھی تسلیم نہیں کر سکتی کہ ایسے عالی شان نبی پر جادو اثر کر کر گیا ہو۔ایسی باتیں کہ اس جادو کی تاثیر سے (معاذاللہ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حافظہ جاتا رہا۔یہ ہو گیا اور وہ ہو گیا کسی صورت میں صحیح نہیں ہو سکتیں۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ " معلوم ہوتا ہے کہ کسی خبیث آدمی نے اپنی طرف سے ایسی باتیں ملادی ہیں۔گو ہم نظر تہذیب سے احایث کو دیکھتے ہیں لیکن جو حدیث قرآن کریم کے بر خلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت کے بر خلاف ہو اس کو ہم کب مان سکتے ہیں۔اس وقت احادیث جمع کرنے کا وقت تھا۔گو انہوں نے " یعنی جو حدیثیں جمع کرنے والوں نے "سوچ سمجھ کر احادیث کو درج کیا تھا مگر پوری احتیاط سے کام نہیں لے سکے۔"باوجود