خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 131
خطبات مسرور جلد 17 131 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 مارچ 2019 حفاظت کا وعدہ دیا گیا ہو۔اگر اس جگہ کسی کو یہ خیال گزرے کہ قرآن تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتا ہے کہ سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى (الاعلی: 7)۔یعنی ہم تجھے ایک ایسی تعلیم دیں گے جسے تو نہیں بھولے گا تو اس کے جواب میں اچھی طرح یاد رکھنا چاہیے کہ یہ وعدہ صرف قرآنی وحی کے متعلق ہے نہ کہ عام۔اور مراد یہ ہے کہ اے رسول ! ہم اپنی جو وحی تجھ پر امت کی ہدایت کے لیے نازل کریں گے اسے تو نہیں بھولے گا اور ہم قیامت تک اس کی حفاظت کریں گے۔عام روز مرہ کی باتوں اور دنیوی امور یا دینی اعمال کے ظاہری مراسم کے متعلق یہ وعدہ ہر گز نہیں ہے۔چنانچہ حدیث سے ثابت ہے کہ آپ کئی موقعوں پر بشری لوازمات کے ماتحت بھول جاتے تھے بلکہ حدیث میں یہاں تک آتا ہے کہ آپ بعض اوقات نماز پڑھاتے ہوئے رکعتوں کی تعداد کے متعلق بھی بھول گئے اور لوگوں کے یاد کرانے پر یاد آیا۔بخاری اور مسلم دونوں میں یہ حدیث موجود ہے۔اسی طرح اور کئی موقعوں پر آپ بھول جاتے تھے۔بلکہ حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے متعلق فرمایا ہے کہ انَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيْتُ فَذَكَّرُونِي (ابو داؤد كتاب الصلوة اباب اذا صلى خمساحدیث:1020) یعنی میں بھی تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں اور جس طرح تم کبھی بھول جاتے ہو میں بھی بھول سکتا ہوں۔پس اگر میں کسی معاملہ میں بھول جایا کروں تو تم مجھے یاد دلا دیا کرو۔پس جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کبھی عام اور وقتی نسیان ہو جا تا تھا اسی طرح صلح حدیبیہ کے بعد کچھ عرصہ کے لیے بیماری کے رنگ میں نسیان ہو گیا تھا۔چنانچہ یہی وہ تشریح ہے جو سحر والی روایت کے مطابق روایت کے تعلق میں بعض گزشتہ علماء نے کی ہے۔مثلاً علامہ مادری فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر بیشمار پختہ دلائل موجود ہیں اور آپ کے معجزات بھی آپ کی سچائی پر گواہ ہیں۔باقی عام دنیا کے امور جن کے لیے آپ مبعوث نہیں کیے گئے تھے سو اس تعلق میں یہ ایک بیماری کا عارضہ سمجھا جائے گا جیسا کہ انسان کو دوسری بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔اور علامر ابن القصار فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو یہ عارضہ نسیان کا پیش آیا تو یہ بیماریوں میں سے ایک بیماری تھی جیسا کہ حدیث کے ان آخری الفاظ سے ظاہر ہے کہ اللہ نے مجھے شفا دے دی ہے۔اس میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ صلح حدیبیہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ حالت جسے دشمنوں کے سحر کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے وہ ہر گز کسی سحر ، جادو وغیرہ کا نتیجہ نہیں تھی۔بلکہ پیش آمدہ حالات کے ماتحت محض بھولنے کی تکلیف تھی۔نسیان کی بیماری تھی جسے بعض فتنہ پرداز لوگوں نے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات کے خلاف پر اپیگنڈے کا ذریعہ بنالیا۔قرآن مجید نبیوں پر سحر کے قصہ کو دور سے ہی دھکے دیتا ہے، رڈ کر دیتا ہے۔عقل انسانی اسے قبول کرنے سے انکار کرتی ہے۔حدیث کے الفاظ اس تشریح کو جھٹلاتے ہیں جو اس پر مڑھی جارہی