خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 130 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 130

خطبات مسرور جلد 17 130 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 مارچ 2019 دھوکا دیا جاسکے ان خبیث فطرت لوگوں نے ایک یہودی نسل منافق لبید بن الاعصم کے ذریعہ اپنے طریق کے مطابق ایک کنگھی میں کچھ بالوں کی گرہیں باندھ کر اسے کنویں میں دبا دیا اور مخفی گپ شپ شروع ہو گئی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مزید پریشانی کا موجب ہوئی۔چوتھی بات یہ کہ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کے حضور اضطراب کے ساتھ دعائیں کیں کہ خدایا تو اپنے فضل سے اس فتنہ کا سد باب فرما اور مجھ پر اس کی حقیقت کو کھول دے تاکہ میں اس فتنہ کا ازالہ کر کے سادہ مزاج لوگوں کو ٹھوکر سے بچا سکوں۔چنانچہ وہ بہ قبولیت دعا ظاہر ہو گیا۔پانچویں یہ کہ خدا تعالیٰ نے آپ کی ان دعاؤں کو سنا اور لبید بن الاعصم کی شرارت کا پول کھول دیا جس پر آپ چند گواہوں کی معیت میں اس کنویں پر تشریف لے گئے اور اس کنگھی کو سپرد خاک کر دیا بلکہ کنویں تک کو پاٹ دیا تا کہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔بالآخر یہ سوال رہ جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو خدا تعالیٰ کے ایک عالی شان نبی بلکہ افضل الرسل اور خاتم النبیین تھے آپ کو نسیان کا عارضہ کیوں لاحق ہو ا جو بظاہر فرائض نبوت کی ادائیگی میں رخنہ انداز ہو سکتا ہے ؟ تو اس کے جواب میں اچھی طرح یا د رکھنا چاہیے کہ ہر نبی کی دوہری حیثیت ہوتی ہے۔ایک پہلو کے لحاظ سے خدا کا نبی اور رسول ہو تا ہے جس کی وجہ سے وہ خدا کے کلام سے مشرف ہوتا ہے اور دینی امور میں اپنے متبعین کا استاد قرار پاتا ہے اور ان کے لیے اسوہ بنتا ہے اور دوسرے پہلو کے لحاظ سے وہ انسانوں میں سے ایک انسان ہوتا ہے اور تمام ان بشری لوازمات اور طبعی خطرات کے تابع ہوتا ہے جو دوسرے انسانوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا ہے قُل انما انا بشر مثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى (الكهف: (111) یعنی اے رسول ! تو لوگوں سے کہہ دے کہ میں تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں اور تمام ان قوانین کے تابع ہوں جو دوسرے انسانوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں ہاں میں یقینا خدا کا ایک رسول بھی ہوں اور خدا کی طرف سے مخلوق خدا کی ہدایت کے لیے وحی و الہام سے نوازا گیا ہوں۔یہ اس کا تفسیری ترجمہ ہے۔اس لطیف آیت میں انبیاء کی دُہری حیثیت کو نہایت عمدہ طریق پر بیان کیا گیا ہے۔یعنی انہیں ایک جہت سے دوسرے انسانوں سے ممتاز کیا گیا ہے اور دوسری جہت سے ان کو دوسرے انسانوں کی صف سے باہر نہیں نکلنے دیا گیا۔پس جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ انبیاء بشری لوازمات اور انسان کے طبعی خطرات سے بالا ہوتے ہیں وہ جھوٹا ہے۔یقینا انبیاء بھی اسی طرح بیمار ہوتے ہیں جس طرح کہ دوسرے انسان بیمار ہوتے ہیں۔حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ وہ ملیریا بخار ، ٹائیفائیڈ ، ضمناً یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ظاہری علامات جو درج ہیں۔حدیث اور تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مرض ٹائیفائیڈ سے فوت ہوئے تھے سل، دق، دمہ، نزلہ، کھانسی، نقرس، دورانِ سر ، اعصابی تکلیف، ذکاوت حس، گھبراہٹ، بے چینی، دماغی کوفت، نسیان، حوادث کے نتیجہ میں چوٹیں اور زخم، لڑائی کی ضربات وغیرہ وغیرہ سب کی زد میں نبی آسکتے ہیں اور آتے رہے ہیں۔سوائے اس کے کہ کسی خاص نبی کو خدا کی طرف سے استثنائی طور پر کسی خاص بیماری سے