خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 129
خطبات مسرور جلد 17 129 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 مارچ2019 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہی کہ یاد رکھنا چاہیے کہ حکایت عن الغیر یعنی دوسروں کے حوالے سے جب باتی کی جاتی ہے یا دوسروں کی بات کو آگے بیان کیا جاتا ہے اس کا طریق کلام عربوں میں رائج تھا بلکہ خود قرآن کریم نے بھی بعض جگہ اس طرز کلام کو اختیار کیا ہے۔چنانچہ ایک جگہ دوزخیوں کو مخاطب کر کے خد اتعالیٰ فرماتا ہے کہ ذُقُ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ (الدخان: 50) کہ یعنی اے جہنم میں ڈالے جانے والے شخص ! تو خدا کے اس عذاب کو چکھ۔بے شک تو بہت عزت والا اور بڑا شریف انسان ہے۔اس جگہ یہ مراد ہر گز نہیں کہ نعوذ باللہ خدا دوزخیوں کو معزز اور شریف خیال کرتا ہے بلکہ حکایت عن الغیر کے رنگ میں مراد یہ ہے کہ اے وہ انسان جسے اس کے ساتھی اور وہ خود معزز اور شریف خیال کرتے تھے دنیا میں غلط کام کرنے کے بعد سمجھتے تھے ہم بہت معزز ہیں تو اب خدا کے آگ کے عذاب کا مزا چکھ۔بعینہ یہی رنگ اس رویا میں ان دو آدمیوں یا دو فرشتوں نے اختیار کیا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس رویا میں نظر آئے تھے۔چنانچہ انہوں نے جب یہ کہا کہ اس شخص کو سحر کیا گیا ہے تو ان کی مراد یہ نہیں تھی کہ ہمارے خیال میں سحر کیا گیا ہے مگر مراد یہ تھی کہ لوگ کہتے ہیں کہ اسے سحر کیا گیا ہے۔جادو کیا گیا ہے اور خواب کی اصل غرض و غایت اس کے سوا کچھ نہیں تھی کہ جو چیز ان خبیثوں نے چھپا کر اس کنویں میں رکھی ہوئی تھی اور اس کے ذریعہ وہ اپنے ہم مشرب لوگوں کو دھوکا دیتے تھے ، اپنے جیسے لوگوں کو دھوکا دیتے تھے ، مشہور کر رہے تھے ، منافقوں میں باتیں پھیلا رہے تھے ، اسے خدا اپنے رسول پر ظاہر کر دے تا ان کے مزعومہ سحر کو ملیا میٹ کر دیا جائے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ان کے سحر کا آلہ سپر د خاک کر دیا گیا اور کنویں کو پاٹ دیا گیا اور بالواسطہ طور پر اس کے نتیجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کا یہ فکر بھی کہ یہ لوگ اس قسم کی شرارتیں کر کے سادہ مزاج لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں زائل ہو گیا اور یہ خدائی وعدہ بڑی آب و تاب کے ساتھ پورا ہوا کہ لَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ آتى (طه: 70) یعنی ایک ساحر خواہ کوئی سا طریقہ اختیار کرے وہ خدا کے ایک نبی کے مقابلے پر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔بہر حال او پر والی حدیث سے ذیل کی باتیں ثابت ہوتی ہیں: یہ کہ صلح حدیبیہ کے واقعہ کے بعد جس کی وجہ سے طبعاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں کی لغزش کے خیال سے کافی فکر مند تھے اور آپ کئی دنیوی باتیں جو گھریلو معاملات سے تعلق رکھتی تھیں بھول جاتے تھے۔دوسرے آپ کی اس حالت کو دیکھ کر یہودیوں اور منافقوں نے جو ہمیشہ ایسی باتوں کی آڑ لے کر اسلام اور مقدس بانی اسلام کو بد نام کرنا چاہتے تھے یہ مخفی چر چا شروع کر دیا کہ ہم نے نعوذ باللہ مسلمانوں کے نبی پر جادو کر دیا ہے۔ان کا یہ چر چا ایسا ہی تھا جیسا کہ انہوں نے غزوہ بنی مصطلق میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے حضرت عائشہ کو بدنام کرنا شروع کر دیا تھا اور اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تلخ کرنے کی ناپاک کوشش کی تھی۔تیسرے یہ کہ اس مزعومہ سحر کی ظاہری علامت کے طور پر تاکہ سادہ طبع لوگوں کو زیادہ آسانی سے