خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 128
خطبات مسرور جلد 17 128 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 مارچ 2019 تم محض ایک ایسے شخص کی پیروی کر رہے ہو جو سحر زدہ ہے۔قرآن کریم میں لکھا ہے کہ کافروں نے یہی کہا تھا۔پھر خود اس حدیث کے الفاظ اور اند از بیان اور محاورہ عرب پر غور کرنے کے نتیجہ میں بخاری کی یہ روایت یقیناً حکایت عن الغیر کے رنگ میں سمجھی جائے گی۔حکایت عن الغیر کا مطلب یہ ہے کہ بظاہر کلام کرنے والا اپنی طرف سے کلام کرتا ہے مگر حقیقتا مراد یہ ہوتی ہے کہ دوسرے لوگ یہ کہتے ہیں۔دوسرے کی بات بیان کی جاتی ہے۔اس طرح اس روایت کا ترجمہ یہ بنتا ہے کہ حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سحر کیا گیا یعنی دشمنوں نے مشہور کر دیا کہ آپ کو سحر کر دیا گیا ہے حضرت عائشہ نے خود نہیں کہا۔اس کا ترجمہ اس طرح بنے گا کہ دشمنوں نے ہی مشہور کر دیا کہ آپ کو سحر کر دیا گیا ہے حتی کہ ان ایام میں آپ بعض اوقات خیال فرماتے تھے کہ آپ نے فلاں کام کیا ہے حالانکہ در حقیقت نہیں کیا ہو تا تھا اور ایک روایت میں یہ ہے کہ آپ بعض اوقات خیال کرتے تھے کہ اپنی فلاں بیوی کے گھر ہو آیا ہوں حالانکہ آپ ان کے گھر میں نہیں گئے ہوتے تھے۔انہی ایام میں حضرت عائشہ کی وضاحت کے مطابق آپ ایک دن میرے مکان میں تھے اور آپ گھبر اہٹ میں بار بار خدا کے حضور دعا فرماتے تھے۔اس دعا کے بعد آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اے عائشہ ! کیا تجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ بات بتا دی ہے جو میں نے اس سے پوچھی تھی ؟ میں نے عرض کیا یارسول اللہ !وہ کیا بات ہے ؟ آپ نے فرما یاخواب میں میرے پاس دو آدمی آئے یا کشفی رنگ میں۔ان میں سے ایک میرے سر کی طرف بیٹھ گیا اور دوسرا پاؤں کی طرف بیٹھ گیا۔پھر ان میں سے ایک نے دوسرے کو پوچھا کہ اس شخص کو کیا تکلیف ہے ؟ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ انداز گفتگو بھی حکایت عن الغیر کا ہے، دوسرے کے حوالے سے بات کرنے کی طرف اشارہ کر رہا ہے اور پھر وہی لمبی بات جو پہلے بیان ہو چکی ہے کہ اس کو تکلیف یہ ہے کہ فلاں یہودی نے جادو کیا ہے اور لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس کا اثر ہے۔پھر حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اس خواب کے بعد یا اس کشف کے بعد آپ اپنے بعض صحابہ کے ساتھ اس کنویں پر تشریف لے گئے اور اس کا معائنہ فرمایا۔اس پر کھجوروں کے کچھ درخت اُگے ہوئے تھے یعنی وہ اندھا سا کنواں تھا۔پھر آپ حضرت عائشہ کے پاس واپس تشریف لائے اور ان سے فرمایا عائشہ !ہمیں اسے دیکھ آیا ہوں۔اس کنویں کا پانی مہندی کے پانی کی طرح سرخی مائل ہو رہا ہے۔یہودیوں کا طریق تھا کہ لوگوں کی نظروں کو دھوکا دینے کے لیے جیسا کہ بیان ہو چکا ہے ایسے کنویں کے پانی کو رنگ دیتے تھے اور اس کے کھجور کے درخت، تھوہر کے درختوں کی طرح مکروہ نظر آتے تھے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ نے اس کنگھی وغیرہ کو باہر نکال کر پھینک کیوں نہیں دیا ؟ بعض میں آتا ہے کہ جلا کیوں نہیں دیا؟ آپ نے فرمایا کہ خدا نے مجھے محفوظ رکھا اور مجھے شفا دی تو پھر میں اسے باہر پھینک کر لوگوں میں ایک بری بات کا چرچا کیوں کرتا؟ جس سے کمزور طبیعت لوگوں میں سحر کی طرف خوانخواہ توجہ پیدا ہونے کا اندیشہ تھا پس اس کنویں کو دفن کر کے بند کر وا دیا گیا۔