خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 125 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 125

خطبات مسرور جلد 17 125 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 مارچ 2019 بیماری تھی یا جو بھی بیماری تھی اس کی کچھ اور وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہودیوں کی کارروائی سے آگاہ فرما کر ظاہری طور پر بھی ان کا جو خیال تھا کہ انہوں نے جادو کیا ہے اس کو بھی ناکام کر دیا اور یہودی جو آپ کی بیماری کو دیکھ کر اپنے زعم میں خوش ہو رہے تھے یا یہ مشہور کر دیا تھا، یہ باتیں کرتے تھے کہ ہمارے جادو کا اثر ہے جو یہ بیماری چل رہی ہے اس کی حقیقت ظاہر ہو گئی۔پھر ہمارے لٹریچر میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا ایک مضمون ہے، جس میں اس واقعہ پر تفصیل سے تاریخی اور علمی بحث ہوئی ہے اور جو اس واقعہ کی مزید وضاحت کرتا ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ تاریخ بلکہ حدیثوں تک میں بیان ہوا ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نعوذ باللہ ایک دفعہ ایک یہودی نسل منافق نے جس کا نام لبید بن الأعصم تھا سحر کر دیا تھا یا جادو کر دیا تھا اور یہ سحر اس طرح کیا گیا کہ ایک کنگھی میں بالوں کی گرہیں باندھ کر اور اس پر کچھ پڑھ کر اسے ایک کنویں میں دبا دیا گیا۔اور کہا جاتا ہے آپ فرمارہے ہیں کہ کہا جاتا ہے کہ آپ نعوذ باللہ اس سحر میں کافی عرصہ مبتلا رہے۔یہ مشہور کیا ہوا تھا انہوں نے۔اس عرصے میں آپ اکثر اوقات اداس اور افسردہ رہتے تھے اور گھبر اہٹ میں بار بار دعا فرماتے تھے اور اس حالت کا نمایاں پہلو یہ تھا کہ آپ کو ان ایام میں بہت زیادہ نسیان رہنے لگا تھا۔بھول جاتے تھے بعض باتیں۔حتی کہ بسا اوقات آپ خیال کرتے تھے کہ میں یہ کام کر چکا ہوں مگر دراصل آپ نے وہ کام نہیں کیا ہو تا تھا۔یا بعض اوقات آپ یہ خیال فرماتے تھے کہ میں اپنی فلاں بیوی کے گھر ہو آیا ہوں مگر در حقیقت آپ اس کے گھر نہیں گئے ہوتے تھے۔اور اس کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ اس تعلق میں یاد رکھنا چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریق تھا کہ اسلامی احکام کے مطابق آپ نے اپنی بیویوں کی باری مقرر کر رکھی تھی اور ہر روز شام کو ہر بیوی کے گھر جا کر خیریت دریافت فرماتے تھے اور بالآخر اس بیوی کے گھر پہنچ جاتے تھے جس کی اس دن باری ہوتی تھی۔اوپر والی روایت میں اسی طرف اشارہ ہے۔بہر حال یہ روایت آگے چلتی ہے بالآخر خدا تعالیٰ نے ایک رؤیا کے ذریعہ سے آپ پر اس فتنہ کی حقیقت کھول دی وغیرہ وغیرہ۔یہ خلاصہ ہے جو پہلے بھی حضرت مصلح موعود کی تفسیر میں بیان ہو چکا ہے۔یہ بخاری کی روایت ہے جس کا خلاصہ آپ نے بیان کیا پھر آپ لکھتے ہیں کہ یہ اس روایت کا خلاصہ ہے جو تاریخ اور حدیث کی بعض کتابوں میں بیان ہوئی ہے۔اس روایت کے گرد ایسے قصوں کا جال بن دیا گیا ہے کہ اصل حقیقت کا پتہ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔ایسی کہانیاں بنادی گئی ہیں اس روایت پر کہ بہت مشکل ہو گیا ہے کہ حقیقت کیا ہے آپ لکھتے ہیں اگر سب روایتوں کو قبول کیا جائے تو نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک اور مقدس وجو د ایسا ثابت ہوتا ہے کہ گویا خاکم بدہن آپ ایک بہت کمزور طبیعت کے انسان تھے جسے کم از کم دنیا کے معاملات میں آپ کے بد باطن دشمن اپنی سحر کاری سے جس قالب میں چاہتے تھے ڈھال سکتے تھے۔اور یہ کہ وہ آپ کو اپنی ناپاک توجہ کا نشانہ بنا کر آپ کے دل و دماغ پر اس طرح تصرف جمانا شروع کر دیتے تھے کہ آپ نعوذ باللہ اس سحر کے مقابل پر اپنے آپ کو بے بس پاتے تھے۔اگر روایت کو اس طرح بیان کیا جائے جس طرح حدیثوں میں، تاریخ میں بیان ہوئی ہے تو پھر تو یہ نتیجہ نکلتا ہے جو بالکل