خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 124 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 124

124 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 مارچ 2019 خطبات مسرور جلد 17 کے اندر ہے۔پہلے نے پوچھا یہ چیزیں کہاں ہیں ؟ تو دوسرے نے کہا یہ ذی اروان کے کنویں میں ہیں۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد اپنے صحابہ سمیت اس کنویں کے پاس تشریف لے گئے۔پھر واپس آئے تو پھر فرمایا۔اے عائشہ اللہ کی قسم کنویں کا پانی یوں معلوم ہوتا تھا جیسے مہندی کے نچوڑ کی طرح سرخ ہوتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے آگے اس کی وضاحت لکھی ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں میں یہ رواج تھا کہ جب وہ کسی پر جادوٹونہ کرتے تھے تو مہندی یا اسی قسم کی کوئی اور چیز پانی میں ڈال دیتے تھے یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ یہ جادو کے زور سے پانی کو سرخ کیا گیا ہے ایک ظاہری تدبیر وہ کیا کرتے تھے سادہ لوگوں کو بہکانے کے لیے اور وہاں پھر آپ نے فرمایا اور وہاں کی کھجوریں ایسی تھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جیسے شیاطین یعنی سانپوں کے سر اس میں کھجور کے گابھوں کو سانپوں کے سروں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔یعنی کھجور میں گا بھوں والی تھیں حضرت عائشہ کہتی ہیں میں نے کہا یارسول اللہ ! آپ نے اس چیز کو جس پر جادو کیا گیا تھا جلا کیوں نہ دیا؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مجھے جب اللہ تعالیٰ نے شفا دے دی تو میں نے ناپسند کیا کہ کوئی ایسی بات کروں جس سے شر کھڑا ہو۔۔۔۔اس لیے میں نے حکم دیا کہ ان اشیاء کو دفن کر دیا جائے۔چنانچہ ان کو دبا دیا گیا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ جن دو مر دوں کا ذکر آتا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔معلوم ہو تا ہے کہ وہ دو فرشتے تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائے گئے۔اگر وہ انسان ہوتے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی نظر آجاتے۔آپؐ فرماتے ہیں یہ روایت جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی گئی ہے اس کا صرف اتنا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرشتوں کے ذریعہ خبر دی کہ یہودیوں نے آپ پر جادو کیا ہوا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ جس طرح جادو کا اثر تسلیم کیا جاتا ہے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کا اثر ہو بھی گیا تھا۔پھر آپ کہتے ہیں کہ بہر حال۔۔۔۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے جادو ٹونے کی چیزیں نکال کر زمین میں دفن کر دیں تو یہودیوں کو خیال ہو گیا کہ انہوں نے جو جادو کیا تھا وہ باطل ہو گیا ہے۔ختم ہو گیا۔ادھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو صحت بھی عطا فرما دی۔خلاصہ کلام یہ کہ یہودی یہ یقین رکھتے تھے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا ہے۔ا اس وجہ سے طبعی طور پر ان کی توجہ اس طرف مرکوز ہوئی کہ آپ بیمار ہو جائیں۔آپ لکھتے ہیں کہ۔۔۔اس روایت سے جہاں یہودیوں کے اس عناد کا پتہ چلتا ہے جو ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تھا وہاں یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے سچے رسول تھے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو ان تمام باتوں کا علم دے دیا گیا جو یہودی آپ کے خلاف کر رہے تھے۔پس آپ کو غیب کی باتوں کا معلوم ہو جانا اور یہودیوں کا اپنے مقصد میں ناکام رہنا آپ کے سچار سول ہونے کی واضح اور بین دلیل ہے۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 10 صفحہ 539 تا 542) بہر حال حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس طرح نتیجہ نکالا ہے وہی حقیقت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یہودیوں نے اپنے زعم میں جادو کیا لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور بیماری جو بھولنے کی