خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 126 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 126

خطبات مسرور جلد 17 126 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 مارچ2019 غلط نتیجہ ہے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا۔لیکن اگر ان روایات کے متعلق معقولی اور منقولی طور پر غور کیا جائے اور روایات کی محققانہ چھان بین کی جائے، تحقیق کی جائے، باقاعدہ ریسرچ کی جائے تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک مرض نسیان کا عارضہ تھا جو بعض وقتی تفکرات کے اور پیش آمدہ جسمانی ضعف کے نتیجہ میں آپ کو کچھ وقت کے لیے لاحق ہوا تھا جس سے بعض بد خواہ دشمنوں نے فائدہ اٹھا کر یہ مشہور کر دیا کہ ہم نے نعوذ باللہ مسلمانوں کے نبی پر جادو کر دیا ہے مگر خدا تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت جلد صحت دے کر دشمنوں کے منہ کالے کر دیئے اور منافقوں کا جھوٹا پروپیگنڈہ خاک میں مل گیا۔دنیا بھر میں شیطانی طاقتوں کا فاتح اعظم اور افضل الرسل "جس سے بڑھ کر طاغوتی قوتوں کا سر کچلنے والا نہ آج تک پیدا ہوا اور نہ آئندہ ہو گا اس کے متعلق یہ سمجھنا کہ وہ ایک ذلیل یہودی زادے کے شیطانی سحر کا نشانہ بن گیا تھا عقل انسانی کا بد ترین استعمال ہے۔یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا اور یہ صرف ہمارا دعویٰ ہی نہیں بلکہ خود سرور کار کائنات فداہ نفسی نے اس کی تردید فرمائی ہے۔اس کی وضاحت ایک حدیث سے ہوتی ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کیا میرے ساتھ شیطان ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔حضرت عائشہ نے اپنے متعلق پوچھا میرے ساتھ شیطان ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔میں نے پوچھا کیا ہر انسان کے ساتھ شیطان لگا ہوا ہے تو آپ نے فرمایا ہاں۔حضرت عائشہ نے حیران ہو کر عرض کیا کہ یارسول اللہ ! کیا آپ کے ساتھ بھی کوئی شیطان لگا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔مگر خدا نے مجھے شیطان پر غلبہ عطا فرمایا ہے حتی کہ میر اشیطان بھی مسلمان ہو چکا ہے۔حیح مسلم کتاب صفات المنافقين القيامة والجنة والنار باب تحريش الشيطان حديث : 2815) کیا اس واضح اور صریح ارشاد کے ہوتے ہوئے یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ کسی یہودی منافق نے جو قرآن کی رو سے ایک مغضوب علیہ قوم بھی ہے اپنے شیطان کی مدد سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے بلند مرتبہ انسان پر جادو کر دیا ہو گا۔اور آپ اس شیطانی جادو سے متاثر ہو کر مدتوں پریشان اور مغموم اور بیمار رہے ؟ جھوٹے لوگ حق کے مقابل پر ہر زمانہ میں ایسے باطل اور جھوٹے حربے استعمال کرتے رہے ہیں۔مگر خدائے قدیر و عزیز ایسے تمام جھوٹوں کے پول کھولتا رہا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے : كَتَبَ اللهُ لَا غُلِبَنَّ آنا وَرُسُلِي (المجادلة: 23) یعنی خدا نے یہ بات لکھ رکھی ہے اور مقدر کر رکھی ہے کہ ہر رسول کے زمانہ میں میں اور میرے رسول غالب رہیں گے اور کوئی شیطانی حربہ ہمارے مقابلہ پر کامیاب نہیں ہو سکتا۔آپ لکھتے ہیں کہ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس واقعہ کی حقیقت کیا ہے جو صحیح بخاری تک میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زبانی بیان ہوا ہے۔سو اگر واقعہ کے سیاق و سباق اور یہودیوں اور منافقوں کے طور طریقوں کو مد نظر رکھ کر غور کیا جائے تو اس واقعہ کی حقیقت کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں رہتا۔سب سے پہلے تو یہ جانا چاہیے کہ اس مزعومہ سحر کا واقعہ صلح حدیبیہ کے بعد کا ہے۔طبقات ابن سعد میں یہ لکھا ہے۔جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رؤیا کی بنا پر عمرہ کی غرض سے مکہ تشریف لے جانے کا فیصلہ کیا اور وہاں