خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 123
خطبات مسرور جلد 17 123 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 مارچ 2019 بیان کرتا ہوں جو جماعت کے لٹریچر میں موجود ہے۔ان دونوں صحابہ کے حوالہ سے آج اس بات کی وضاحت ہو گی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سورۃ فلق کی تفسیر کے تعارف میں اس واقعہ کا ذکر فرماتے ہوئے بیان فرمایا۔آپ سورۃ کے بارے میں بیان فرمارہے ہیں کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سورۃ الفلق اور الناس یہ آخری دونوں سورتیں مکہ میں نازل ہوئیں۔بعض ان کو مدنی سورتیں کہتے ہیں یعنی مدینہ میں نازل ہوئیں۔آپ لکھتے ہیں کہ جو لوگ اس بات کے حق میں ہیں کہ یہ سورۃ مدنی ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ اس سورۃ اور اس کے بعد کی سورۃ کا تعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بیماری کے ساتھ ہے جس میں یہ سمجھا گیا تھا کہ یہود کی طرف سے آپ پر جادو کیا گیا ہے۔اس وقت یہ دو سورتیں نازل ہوئیں اور آپ نے ان کو پڑھ کر پھونکا۔یہ آپ بیان فرمار ہے ہیں کہ یہ کہا جاتا ہے اور مفسرین کہتے ہیں کہ چونکہ یہ واقعہ مدینہ میں ہوا تھا اس لیے سورۃ الفلق اور سورۃ الناس مدنی ہیں۔بہر حال ترجیح اسی کو دی گئی ہے کہ یہ دونوں سورتیں مدنی ہیں یعنی مدینہ میں نازل ہوئیں۔حضرت مصلح موعودؓ یہ لکھتے ہیں کہ یہ مفسرین کا ایک استدلال ہے۔تاریخی شہادت نہیں۔گو ہمارے پاس بھی ایسی کوئی یقینی شہادت نہیں کہ جس کی بناء پر ہم کہہ سکیں کہ یہ مکی سورۃ ہے۔مگر جو استدلال کیا گیا ہے وہ بھی بودا ہے۔فضول قسم کا یہ استدلال ہے کیونکہ خواہ یہ سورۃ مکہ میں نازل ہوتی تب بھی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کے موقع پر اس کو پڑھ کر اپنے اوپر پھونک سکتے تھے۔پس محض پھونکنے سے یہ سمجھنا کہ یہ مدینہ میں نازل ہوئی تھی یہ استدلال درست نہیں۔۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بیمار ہونا اور لوگوں کا یہ سمجھنا کہ آپ پر یہودیوں کی طرف سے جادو کیا گیا ہے، یہ واقعہ جن الفاظ میں روایت کیا گیا ہے وہ الفاظ یہ ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے یہ الفاظ اسی سورۃ کے تعارف میں بیان کرتے ہوئے لکھے۔آپ لکھتے ہیں کہ چونکہ مفسرین نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کو ترجیح دی ہے اس لیے ہم صرف اسی روایت کا ترجمہ کرتے ہیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہودیوں کی طرف سے جادو کیا گیا۔اور اس کا اثر یہاں تک ہوا کہ آپ بعض اوقات یہ سمجھتے تھے کہ آپ نے فلاں کام کیا ہے حالانکہ وہ کام نہیں کیا ہو تا تھا۔ایک دن یا ایک رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔پھر دعا کی اور پھر دعا کی۔پھر فرمایا: اے عائشہ ! اللہ تعالیٰ سے جو کچھ میں نے مانگا تھا وہ اس نے مجھے دے دیا۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ وہ کیا ہے جو آپ نے مانگا تھا ؟ کیا دیا ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو ؟ تو آپ نے فرمایا کہ میرے پاس دو آدمی آئے۔ایک میرے سر کے پاس بیٹھ گیا اور ؟ دوسرا میرے پاؤں کے پاس۔پھر وہ شخص جو میرے سر کے پاس بیٹھا ہوا تھا اس نے پاؤں کے پاس بیٹھنے والے کو مخاطب کر کے کہا یا غالباً یہ فرمایا حضرت عائشہ فرماتی ہیں یا یہ کہا کہ پاؤں کے پاس بیٹھنے والے نے سر کے پاس بیٹھنے والے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس شخص (یعنی محمد رسول اللہ علی یم) کو کیا تکلیف ہے ؟ تو دوسرے نے جواب دیا کہ جادو کیا گیا ہے۔اس نے کہا کہ کس نے جادو کیا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ لبید بن الا عصم یہودی نے۔تب پہلے نے کہا کہ کس چیز میں جادو کیا گیا ہے ؟ تو دوسرے نے جواب دیا کہ کنگھی اور سر کے بالوں پر جو کھجور کے خوشہ