خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 122
خطبات مسرور جلد 17 122 10 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 مارچ 2019 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 08 مارچ 2019ء بمطابق 08 / امان 1398 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یو کے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: حضرت قيس بن محصن انصاری صحابی تھے۔بعض روایات میں ان کا نام قیس بن حصن بھی بیان ہوا ہے۔ان کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو زُریق سے تھا۔ان کی والدہ کا نام انیسہ بنت قیس تھا اور والد محصن بن خالد تھے۔آپ غزوہ بدر اور احد میں شریک ہوئے۔آپ کی ایک بیٹی ام سعد بنت قیس تھیں۔جب آپ فوت ہوئے تو آپ کی اولاد مدینہ میں تھی۔(اسدالغابه جلد 04 صفحه 422 قيس بن محصن دار الكتب العلمية بيروت 2003ء) الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 443 قيس بن محصن دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) دوسرے صحابی ہیں حضرت جبیر بن ایاس۔اِيَاس بن خَالِد ان کے والد کا نام تھا۔یہ غزوہ بدر میں شامل ہوئے۔ان کا تعلق قبیلہ خزرج کی شاخ بنُوزُریق سے تھا۔حضرت عبد اللہ بن محمد نے کہا کہ آپ کا نام جُبیر بن الیاس تھا اور ایک دوسری روایت میں آپ کا نام جبیر بن ایاس بھی بیان ہوا ہے۔الطبقات الكبرى جلد3 صفحه 444 جبير بن ایاس دار الكتب العلمية بيروت 1990ء) احادیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نعوذ باللہ کسی یہودی نے جادو کر دیا تھا جس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اثر ہو گیا تھا اور روایات میں آتا ہے کہ کنگھی اور بالوں پر وہ جادو کر کے ذروان کنویں میں ڈال دیا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں ان کو وہاں سے جا کر نکالا صحیح بخاری کی شرح فتح الباری میں ہے کہ وہ کنگھی اور بال حضرت جبیر بن ایاس نے ذروان کنویں سے نکالے تھے اور ایک اور روایت کے مطابق حضرت قیس بن محصن نے نکالے تھے۔(فتح الباری از امام ابن حجر جلد 10 صفحہ 2 28 کتاب الطب باب السحر حدیث 5763 قدیمی کتب خانہ کراچی) اس لیے ان دونوں صحابہ کا ذکر میں نے اکٹھا کیا ہے۔ان میں سے جس نے بھی یہ چیزیں نکالی تھیں یہ بات اتنی اہم نہیں ہے۔اصل بات یہ ہے کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی جادو کا اثر ہوا تھا؟ اس کی حقیقت کیا ہے ؟ اس بات پر ہمار انقطہ نظر کیا ہے ؟ اور یہ ہمیں پتہ ہونا چاہیے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر جس بات سے بھی اعتراض پیدا ہو سکتا ہے یا لوگ اعتراض کرتے ہیں ہم نے جواب دینا ہے۔اس لیے میں اس کی کچھ تفصیل