خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 121
خطبات مسرور جلد 17 121 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 مارچ 2019 میں سے بھی کسی کو آپ کے پاس حاضر ہونا چاہیئے ، یعنی کہ انصار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ننھیالی ہیں۔انصار سے کہا گیا کہ تم لوگ اپنے میں سے کسی ایک شخص پر اتفاق کر لو۔کوئی ایک شخص مقرر کر دو۔تو انہوں نے حضرت اوس بن خولی اللہ پر اتفاق کیا۔وہ اندر آئے اور آپ کے غسل اور تدفین میں شریک رہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل اور تدفین میں شریک رہے۔حضرت اوس یہ مضبوط آدمی تھے اس لیے پانی کا گھڑا اپنے ہاتھ میں اٹھا کر لاتے تھے اور اس طرح پانی مہیا کرتے رہے۔(اسد الغابه جلد 1صفحه 320 اوس بن خولى مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) (اصابه جلد 1صفحه 299 اوس بن خولى مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضرت علی، حضرت فضل بن عباس، ان کے بھائی قشم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام شقران اور حضرت اوس بن خولی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں اترے تھے۔(سنن ابن ماجه كتاب الجنائز باب ذکر وفاته و دفنه علی الله حدیث 1628) یعنی نعش لحد کے اندر رکھنے کے لیے۔حضرت اوس بن خوبی اللہ سے مروی ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا اے اوس ! جو اللہ تعالیٰ کے لیے عاجزی اور انکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے درجات بڑھاتا ہے اور جو تکبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو ذلیل کرتا ہے۔(معرفة الصحابة لا بي نعيم جلد 1 صفحه 279 من اسمه اوس حديث 975 مطبوعه دار الكتب العلميه پس یہ بہت ضروری سبق ہے جو ہمیں ہمیشہ یادرکھنا چاہیے۔آپ کی وفات مدینہ میں حضرت عثمان کے دور خلافت میں ہوئی۔بیروت 2002ء) (اسد الغابه جلد 1 صفحه 321 اوس بن خولی مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) اللہ تعالیٰ ان سب بزرگ صحابہ کے درجات بلند فرماتا چلا جائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 22 / مارچ 2019ء تا 29 / مارچ 2019ء " خصوصی اشاعت " جلد 26 شماره 12-13 صفحه 05 تا 09)