خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 120
خطبات مسرور جلد 17 120 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 مارچ 2019 مجھے پانی نے ہر طرف سے گھیر لیاتھا اور پانی ایسے اہل رہاتھا جیسے دو چی ابلتی ہے یہاں تک کہ پانی بلند ہو اور کناروں تک برابر ہو گیا۔لوگ اس کے کنارے سے پانی بھرتے تھے یہاں تک کہ ان میں سے آخری شخص نے بھی پیاس بجھا لی۔اس دن منافقوں کا ایک گروہ وہاں پانی پر تھا جن میں عبد اللہ بن اُبی بھی تھا جو حضرت اوس بن خولی یی کا ماموں تھا۔حضرت اوس بن خولی اللہ نے اسے کہا کہ اے ابو الحباب ! ہلاکت ہو تجھ پر۔اب تو تو اس معجزے کو مان لے جس پر تو خود موجود ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی کو مان لے۔کیا اس کے بعد کوئی گنجائش رہ گئی ہے ؟ تو اس نے جواب دیا میں اس جیسی بہت سی چیزیں دیکھ چکا ہوں تو اس کو حضرت اوس بن خولی یمہ نے کہا اللہ تیرا برا کرے اور تیری رائے کو برا ثابت کر دے۔عبداللہ بن اُبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابو الحباب ! آج جو تو نے دیکھا ہے اس جیسا پہلے کب دیکھا تھا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خبر پہنچی تو آپ نے پوچھا۔اس نے کہا کہ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر وہ بات تم نے کیوں کہی یعنی جو اپنے بھانجے کو کہی تھی۔عبداللہ بن ابی نے کہا کہ استغفر الله - عبد اللہ بن اُبی کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن عبد اللہ نے عرض کیا یارسول اللہ ! ان کے لیے مغفرت کی دعا کیجئے۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغفرت کی دعا کی۔(سبل الهدى جلد 5 صفحه 41 باب في غزوة الحديبية مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1993ء)(امتاع الاسماع جلد 1 صفحه 284 باب مقالة المنافقين فى دليل النبوة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1999ء) حضرت علی بن عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عمرہ کے لیے مکہ جانے کا ارادہ فرمایا تو آپ نے آؤس بن خولی اللہ اور ابو رافع لے کو حضرت عباس کی طرف پیغام دے کر بھیجا کہ وہ حضرت میمونہ کی شادی آپ سے کروا دیں۔راستے میں ان دونوں کے اونٹ کھو گئے۔وہ کچھ دن بطن رابغ یعنی رابغ جو مُخفّہ سے دس میل کے فاصلے پر واقع ہے وہاں رکے رہے۔یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔پھر ان دونوں کو ان کے اونٹ مل گئے۔پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی مکہ گئے۔آپ نے حضرت عباس کے پاس پیغام بھیجا حضرت میمونہ نے اپنا معاملہ حضرت عباس کے سپر د کر دیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عباس کے ہاں تشریف لے گئے اور حضرت عباس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت میمونہ کی شادی کرادی۔(شرح علامہ زرقانی جلد 4 صفحه 423 ميمونة ام المومنين مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) (معجم البلدان جلد 3 صفحه 12 زیر لفظ رابغ مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت) الله جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو حضرت اوس بن خولی نے حضرت علی بن ابی طالب رضی سے کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ ہمیں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شریک کرلیں۔چنانچہ حضرت علی نے آپ کو اجازت دی۔اس کی ایک دوسری روایت اس طرح ملتی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ کو غسل دینے کا ارادہ کیا گیا تو انصار آئے اور انہوں نے یہ کہا کہ اللہ اللہ ہم لوگ آپ کے ننھیالی ہیں۔لہذاہم