خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 119 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 119

خطبات مسرور جلد 17 119 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 مارچ 2019 پاس ہو کر ذرا آرام کرنے بیٹھے تھے ان پر ایک یہودی عورت بنانہ نامی نے قلعہ کے اوپر سے ایک بھاری پتھر پھینک کر ان میں سے ایک آدمی خلاد نامی کو شہید کر دیا اور باقی مسلمان بچ گئے۔" (سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 598) پھر آتا ہے کہ حضرت خلاد ہ کی والدہ کو جب آپ کی شہادت کی اطلاع ملی تو آپ نقاب کر کے تشریف لائیں۔ان سے کہا گیا کہ خلاد شہید کر دیے گئے ہیں اور آپ نقاب کر کے آئی ہیں۔اس پر انہوں نے کہا کہ خلا د اللہ تو مجھ سے جدا ہو گیا ہے لیکن میں اپنی حیا کو خود سے جدا نہیں ہونے دوں گی۔یہ بین جو رواج تھاوہ اس طرح نہیں ہو گا اور پر دہ حیا ہے وہ تو قائم رہے گی۔حضرت خلاد کی شہادت پر یہ تفصیل آگے اس طرح بھی آتی ہے کہ حضرت خلّا د اللہ کی شہادت دریا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے لیے دو شہیدوں کا اجر ہے جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے۔لیکن زائد اس میں یہ ہے جب پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ ایسا کیوں ہے ؟ دو شہیدوں کا اجر کس لیے ؟ تو آپ نے فرمایا کیونکہ انہیں اہل کتاب نے شہید کیا ہے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 402 خلاد بن سوید مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) اگلے صحابی ہیں حضرت اوس بن خولی انصاری۔ان کی کنیت ابولیلی تھی۔ان کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو سالم بن غنم بن عوف سے تھا۔آپ کی والدہ کا نام جمیلہ بنت ابی تھا جو عبد اللہ بن اُبی بن سلول کی بہن تھیں۔آپؐ کی ایک بیٹی تھیں جن کا نام فُسُحُمہ تھا۔آپ غزوہ بدر، احد اور خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی مؤاخات حضرت شجاع بن وهب الاسدی سے کروائی۔حضرت آؤس بن خولی کا شمار کاملین میں ہو تا تھا۔جاہلیت اور ابتدائے اسلام میں کامل، اس شخص کو کہا جاتا تھا جو عربی لکھنا جانتا ہو۔تیر اندازی کرنا اچھی طرح جانتا ہو اور تیرا کی جانتا ہو۔اچھی طرح تیر نا جانتا ہو۔یہ تین باتیں اس میں ہوں تو اس کو کامل کہتے تھے اور یہ سب باتیں حضرت اوس بن خولی میں موجود تھیں۔(اسد الغابه جلد 1صفحه 320 اوس بن خولى مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) (الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 409-410 اوس بن خولى مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) حضرت ناجيه بن أعجم والی روایت کرتے ہیں کہ جب حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی کی قلت کی شکایت کی گئی تو انہوں نے مجھے بلایا اور اپنی ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور مجھے دیا۔پھر کنویں کا پانی ایک ڈول میں منگوایا۔میں اس کو لے کر آیا۔آپ نے وضو فرمایا اور کلی کر کے ڈول میں انڈیل دیا جبکہ لوگ سخت گرمی کی حالت میں تھے۔مسلمانوں کے پاس ایک ہی کنواں تھا کیونکہ مشرکین بلدح کے مقام پر جلدی پہنچ کر اس کے پانی کے ذخیروں پر قبضہ کر چکے تھے۔پھر آپ نے مجھے فرمایا کہ اس ڈول کو کنویں میں انڈیل دو جس کا پانی خشک ہو گیا ہے۔اور اس کے پانی میں تیر گاڑ دو تو میں نے ایسا ہی کیا۔پس قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں بہت مشکل سے باہر نکلا یعنی فوری طور پر وہاں پانی ابلنے لگ گیا، پھوٹنے لگ گیا۔