خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 118
خطبات مسرور جلد 17 118 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 مارچ 2019 حضرت طفیل اللہ نے غزوہ احد میں بھی شرکت کی اور اس روز آپ کو تیرہ زخم آئے تھے۔حضرت طفیل بن نعمان اللہ غزوہ خندق میں بھی شامل ہوئے اور اسی غزوہ میں شہادت کا رتبہ بھی حاصل کیا۔وحشی بن حرب نے آپ کو شہید کیا تھا۔بعد میں وحشی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا تھا۔وحشی کہا کرتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت حمزہ کو اور حضرت طفیل بن نعمان اللہ کو میرے ہاتھوں عزت بخشی لیکن مجھے ان کے ہاتھوں سے ذلیل نہیں کیا۔یعنی میں کفر کی حالت میں قتل نہیں کیا گیا۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 431 الطفيل بن النعمان مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (اسد الغابه جلد 3 صفحه 79-80 طفيل بن مالك طفيل بن النعمان مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) اگلے صحابی حضرت ضحاك بن عَبْدِ عمر والے ہیں۔ان کا تعلق بنو دِینار بن نجار سے تھا۔آپ کے والد کا نام عبد عمرو اور آپ کی والدہ کا نام سمیراء بنت قیس تھا۔آپ اور آپ کے بھائی حضرت نعمان بن عبد عمر و غزوہ بدر اور احد میں شریک ہوئے۔حضرت نعمان نے غزوہ احد میں شہادت پائی۔آپ کے تیسرے بھائی قطبه بن عبد عمر و واقعہ بئر معونہ کے روز شہید ہوئے تھے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 394 ضحاك بن عبد عمرو ، نعمان بن عبد عمرو مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) پھر اگلے صحابی ہیں ضحاك بن حارثہ اللہ۔حضرت ضحاك اللهم انصار کے قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتے تھے۔آپ کے والد کا نام حارثہ اور والدہ کا نام ھند بنت مالك تھا۔حضرت ضحاك رضی اللہ تعالیٰ عنہ ستّر انصار کے ساتھ بیعت عقبہ میں شامل ہوئے۔آپؐ نے غزوہ بدر میں بھی شرکت کی۔آپ کے بیٹے کا نام یزید تھا جو کہ آپ کی اہلیہ امامہ بنت مُحرّث کے بطن سے پیدا ہوئے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 433 ضحاك بن حارثة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (اسد الغابه جلد 3 صفحه 46 ضحاك بن حارثة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) پھر اگلے صحابی ہیں حضرت خلّا د بن سوید اللہ۔یہ انصاری تھے۔حضرت خلادو اللہ کا تعلق خزرج کی شاخ بنو حارث سے تھا۔آپے کی والدہ کا نام عمره بنت سعد تھا۔آپ کے ایک بیٹے حضرت سائب کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی اور بعد میں حضرت عمرؓ نے انہیں یمن کا عامل بھی مقرر فرمایا۔دوسرے بیٹے کا نام حَكَمُ بن خلاد تھا۔ان دونوں کی والدہ کا نام لیلی بنتِ عُبادہ تھا۔حضرت خلا د اللہ بیعت عقبہ میں شامل ہوئے۔آپ نے غزوہ بدر اور احد اور خندق میں شرکت کی۔غزوۂ بنو قریظہ میں ایک یہودی عورت نے جس کا نام بنانہ تھا اوپر سے آپ پر بھاری پتھر پھینکا جس سے آپ کا سر پھٹ گیا اور آپؐ شہید ہو گئے۔اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خلاد کے لیے دو شہیدوں کے برابر اجر ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بھی بطور قصاص پھر بعد میں قتل کروا دیا تھا۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 401-402 خلاد بن سوی مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) سیرت خاتم النبیین میں اس واقعہ کا ذکر اس طرح لکھا ہے کہ "چند مسلمان جو ان کے قلعہ کی دیوار کے