خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 117 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 117

خطبات مسرور جلد 17 117 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 مارچ 2019 حضرت سائب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تجارت کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔چنانچہ سنن ابی داؤد کی روایت ہے کہ حضرت سائب وہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو صحابہ نے آپ کے سامنے میر اذ کر اور تعریف کرنی شروع کر دی۔اس پر آپ نے فرمایا۔میں اسے تم سے زیادہ جانتا ہوں۔میں نے عرض کیا۔صَدَقْتَ بِأَبِي اَنْتَ وَ أُمِّي كُنْتَ شَرِيْكِيْ فَنِعْمَ الشَّرِيْكُ كُنْتَ لَا تُدَارِى وَ لَا تُمَارِی کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ! آپ نے سچ فرمایا۔آپ تجارت میں میرے شریک تھے اور کیا ہی بہترین شراکت دار تھے۔آپ نہ ہی مخالفت کرتے اور نہ ہی جھگڑا کرتے تھے۔(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فى كراهية المراء حديث 4836) سیرت خاتم النبیین میں اس واقعہ کو اس طرح درج کیا گیا ہے کہ "مکہ سے تجارت کے قافلے مختلف علاقوں کی طرف جاتے تھے۔جنوب میں یمن کی طرف اور شمال میں شام کی طرف تو با قاعدہ تجارت کا سلسلہ جاری تھا۔اس کے علاوہ بحرین وغیرہ کے ساتھ بھی تجارت تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عموماً ان سب ملکوں میں تجارت کی غرض سے گئے اور ہر دفعہ نہایت دیانت و امانت اور خوش اسلوبی اور ہنر مندی کے ساتھ اپنے فرض کو ادا کیا۔مکہ میں بھی جن لوگوں کے ساتھ آپ کا معاملہ پڑا وہ سب آپ کی تعریف میں رطب اللسان تھے؛ چنانچہ سائب وہ ایک صحابی تھے۔" جن کا ذکر ہو رہا ہے " وہ جب اسلام لائے تو بعض لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کی تعریف کی۔آپ نے فرمایا میں ان کو تم سے زیادہ جانتا ہوں۔سائب اللہ نے عرض کی۔ہاں یارسول اللہ ! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔آپ ایک دفعہ تجارت میں میرے شریک تھے اور آپ نے ہمیشہ نہایت صاف معاملہ رکھا۔" (سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 106) پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت عاصم بن قیس دلیل ہے۔حضرت عاصم بن قیس اللہ عنہ کا تعلق انصار کے قبیلہ ثعلبہ بن عمرو سے تھا۔غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شریک ہوئے۔(اسد الغابه جلد 3 صفحه 112-113 عاصم بن قيش مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) اگلے صحابی ہیں حضرت طفیل بن مالك بن خَنْساء - حضرت طفیل طے کا تعلق قبیلہ خزرج کی شاخ بنو عبيد بن عَدِمی سے تھا۔حضرت طفیل والی کی والدہ کا نام اسماء بنت القین تھا۔حضرت طفیل و بیعت عقبہ اور غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شامل ہوئے۔آپ کی شادی ادام بنت فرط سے ہوئی جن سے آپ کے دو بیٹے عبد اللہ اور ربیع پیدا ہوئے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 430-431 طفيل بن مالك مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (اسد الغابه جلد 3 صفحه 79 طفيل بن مالك بن خنساء مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت طفیل بن نُعمان۔۔حضرت طفیل کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج سے تھا۔آپ کی والدہ خَنْساء بنت رِئَاب تھیں جو کہ حضرت جابر بن عبداللہ کی پھوپھی تھیں۔حضرت طفیل اللہ کی ایک بیٹی تھیں جن کا نام ربیع تھا۔آپ بیعت عقبہ اور غزوہ بدر میں شامل ہوئے۔