خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 116
خطبات مسرور جلد 17 116 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 مارچ 2019 دیے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک آدمی کو ایک ایک اونٹ دے دیا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ " قرآن نے یہ واقعہ اس لیے بیان کیا ہے تاکہ ان غریب مسلمانوں کے اخلاص کا مقابلہ کر کے دکھائے جو تھے تو مالدار اور سفر پر جانے کے ذرائع بھی رکھتے تھے مگر جھوٹے عذر تلاش کرتے تھے۔" کچھ لوگ ایسے تھے جو عذر تلاش کر رہے تھے اور نہیں گئے۔لیکن جو غریب تھے ان کا جذبہ بالکل اور تھا تاکہ مقابلہ ہو جائے پھر آگے فرماتے ہیں کہ " اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ مدینے میں پیچھے رہ گئے تھے وہ سب منافق نہ تھے بلکہ ان میں مخلص مسلمان بھی تھے مگر وہ اس لیے نہیں جاسکے کہ ان کے پاس جانے کے سامان نہ تھے۔" (دروس حضرت مصلح موعود ( غیر مطبوعہ) تفسير سورة التوبة زير آيت92) اس کی تفسیر میں بیان کرتے ہوئے مزید آپ نے فرمایا ہے کہ " ابو موسیٰ ان لوگوں کے سردار تھے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیامانگا تھا ؟ تو انہوں نے کہا خدا کی قسم ! ہیم نے اونٹ نہیں مانگے ، ہم نے گھوڑے نہیں مانگے ، ہم نے صرف یہ کہا تھا کہ ہم ننگے پاؤں ہیں۔"جوتی بھی نہیں تھی پاؤں میں " اور اتنا لمبا سفر پیدل نہیں چل سکتے۔"پاؤں زخمی ہو جائیں گے تو پھر جنگ لڑ نہیں سکتے۔"اگر ہم کو صرف جوتیوں کے جوڑے مل جائیں تو ہم جو تیاں پہن کر ہی بھاگتے ہوئے اپنے بھائیوں کے ساتھ اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پہنچ جائیں گے۔" (دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد 20 صفحہ 361) یہ غربت کا حال تھا۔یہ جذبہ تھا۔حضرت سالم بن عمیر اللہ حضرت معاویہ ان کے زمانہ تک زندہ رہے۔(اسد الغابه جلد 2 صفحه 387 سالم بن عمير مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) پھر اگلے صحابی حضرت سُراقہ بن كعب ے ہیں۔حضرت سُراقہ کا تعلق قبیلہ بنو نجار سے تھا۔آپ کی والدہ کا نام عميرة بنت نعمان تھا۔حضرت سُراقہ غزوہ بدر اور احد اور خندق سمیت تمام غزوات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔حضرت سراقہ بن کعب ، حضرت معاویہ کے زمانے میں فوت ہوئے اور کلبی کی روایت کے مطابق حضرت سُراقہ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 371 سراقه بن كعب مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (اسد الغابه جلد 2 صفحه 412 سراقه بن كعب مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام حضرت سائب بن مظعون اللہ ہے۔حضرت سائب بن مظعون الله ، حضرت عثمان بن مظعون وام کے سگے بھائی تھے۔آپ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے اولین مہاجروں میں سے تھے۔حضرت سائب کو غزوہ بدر میں شامل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔(اسد الغابه جلد 2صفحه 399 سائب بن مظعون مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوۂ بواط کے لیے روانہ ہوئے تو بعض روایات کے مطابق آپ نے حضرت سعد بن معاذ کو اور بعض کے مطابق حضرت سائب بن عثمان اللہ کو اپنے پیچھے امیر مقرر فرمایا اور ایک روایت میں حضرت سائب بن مظعون اللہ کا نام بھی ملتا ہے۔(السيرة الحلبية جلد 2 صفحه 174 باب ذكر مغازيه غزوه بواط مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء)