خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 115
خطبات مسرور جلد 17 115 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 مارچ 2019 بن الخزرج کے آزاد کردہ غلام تھے۔(اسد الغابه جلد 2 صفحه 338 زياد بن عمرو مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) (الاصابه جلد 2 صفحه 483 زياد بن عمرو مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) اگلے صحابی جن کا ذکر ہو گا ان کا نام حضرت سالم بن عمیر بن ثابت اللہ ہے۔حضرت سالم کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو عمر و بن عوف سے تھا۔آپ بیعت عقبہ میں شامل ہوئے۔حضرت سالم ، غزوہ بدر اور احد اور خندق اور تمام غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔(اسد الغابه جلد 2 صفحه 387 سالم بن عمیر مطبوعہ دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) غزوہ تبوک کے موقع پر جو غریب اصحاب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ غزوہ تبوک کے لیے جانا چاہتے تھے اور سواری نہ ہونے کی وجہ سے روتے تھے، حضرت سالم بھی ان اصحاب میں شامل تھے۔یہ سات غریب اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اس وقت آپ تبوک لیے جانا چاہتے تھے۔ان اصحاب نے عرض کیا کہ ہمیں سواری دیجیے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔میرے پاس کوئی سواری نہیں جس پر میں تم لوگوں کو سوار کروں۔وہ لوگ واپس گئے۔آنکھوں میں اس غم کی وجہ سے آنسو جاری تھے کہ خرچ کرنے کو کچھ نہ پایا۔ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ آیت وَ لَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا آتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوْا وَ أَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ خَزَنَا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنْفِقُونَ (التوبة: 92) یعنی اور نہ ان لوگوں پر کوئی الزام ہے جو تیرے پاس اس وقت آئے جب جنگ کا اعلان کیا گیا تھا اس لیے کہ تو ان کو کوئی سواری مہیا کر دے تو تُو نے جواب دیا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس پر میں تمہیں سوار کراؤں اور یہ جواب سن کر وہ چلے گئے اور اس غم سے ان کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے کہ افسوس ان کے پاس کچھ نہیں جسے خدا کی راہ میں خرچ کریں۔تو ابن عباس کہتے ہیں کہ آیت میں جن لوگوں کا ذکر ہے ان میں یہ سالم بن عمیر دی اور ثعلبہ بن زید ای شامل تھے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 366 سالم بن عمير مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء)(اسد الغابه جلد 2 صفحه 387 سالم بن عمير مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سورت توبہ کی اس آیت کی یعنی یہ آیت جو ہے وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا آتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوْا وَ أَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ اللَّمْعِ خَزَنًا اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ " یہ آیت اپنے اطلاق کے لحاظ سے عام ہی ہے مگر جن اشخاص کی طرف اشارہ ہے وہ سات غریب مسلمان تھے جو جہاد پر جانے کے لیے بیتاب تھے مگر اپنے دل کی خواہش کو پورا کرنے کے سامان نہیں رکھتے تھے۔یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے لیے سواری کا انتظام فرما دیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افسوس ہے میں کوئی انتظام نہیں کر سکتا تو ان کو بڑی تکلیف ہوئی ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور وہ واپس چلے گئے۔کہتے ہیں کہ ان کے چلے جانے کے بعد " یہ روایت آتی ہے کہ ان کے چلے جانے کے بعد "حضرت عثمان نے تین اونٹ دیے اور چار دوسرے مسلمانوں نے