خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 114
خطبات مسرور جلد 17 114 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 مارچ 2019 کے قریب ایک بستی کا نام ہے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 410 زيد بن وديعة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1990ء)(معجم البلدان جلد 4 صفحه 155 زیر لفظ عقرقوف مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 2001ء) پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت ربعی بن رافع انصاری اللہ۔آپ کے دادا کے نام میں اختلاف ہے۔ایک قول کے مطابق نام حارث تھا جبکہ دوسرے کے مطابق زید تھا۔حضرت ربعی بن رافع کا تعلق بنو عجلان سے تھا اور آٹے غزوہ بدر اور اُحد میں شامل ہوئے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 356-357 ربعی بن وديعة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (اسد الغابه جلد 2 صفحه 252 ربعي بن وديعة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت زید بن مُزَین۔مزین بن قیس ان کے والد کا نام تھا۔حضرت زید کا نام یزید بن الْمُرین بھی بیان ہوا ہے۔آپ کا تعلق خزرج قبیلہ سے تھا۔حضرت زید غزوہ بدر اور احد میں شریک ہوئے۔ہجرت مدینہ کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید اور حضرت مسطح بن اثاثہ کے درمیان عقد مؤاخات قائم فرمایا۔آپ کی اولاد میں بیٹا عمر و اور بیٹی رملہ تھیں۔(اسد الغابه جلد 2 صفحه 375 زيد بن المزين مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 407 يزيد بن المزين مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) رضى عنه پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام حضرت عیاض بن زهیر اللہ ہے۔ان کی کنیت ابو سعد تھی۔حضرت عیاض اللہ کی والدہ کا نام سلمی بنتِ عامر تھا۔آپ کا تعلق فھر قبیلہ سے تھا۔آپ حبشہ کی طرف دوسری ہجرت میں شامل ہوئے۔وہاں سے واپس آکر مدینہ ہجرت کی اور حضرت كلثوم بن الهدم و کے ہاں قیام کیا۔آپؐ غزوۂ بدر، غزوہ احد اور خندق سمیت تمام غزوات میں شرکت کی۔حضرت عثمان کے زمانہ خلافت میں تیس ہجری میں مدینہ میں آپ نے وفات پائی اور ایک روایت میں ہے کہ آپ کی وفات شام میں ہوئی۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 318-319 عياض بن زهير مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (اسد الغابه جلد 4 صفحه 311 عياض بن زهير مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) پھر اگلے صحابی ہیں حضرت رِفَاعَه بن عمر و انصاری۔ان کی کنیت ابو ولید تھی۔حضرت رفاعہ کا تعلق قبیلہ بنو عوف بن خزرج سے تھا۔آپ کی والدہ کا نام ام رفاعہ تھا۔آپ ستر انصار کے ساتھ بیعت عقبہ ثانیہ میں شامل ہوئے۔آپؐ نے غزوہ بدر اور احد میں شرکت کی اور غزوہ احد میں جام شہادت نوش کیا۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه -410-411 رفاعه بن عمرو مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) اگلے صحابی ہیں حضرت زیاد بن عمر و ا۔حضرت زیاد کو ابن بشر بھی کہا جاتا تھا۔آپ انصار کے حلیف تھے۔حضرت زیاد غزوہ بدر میں شریک تھے۔آپؐ کے بھائی حضرت ضمرہ بھی غزوہ بدر میں شریک تھے۔آپ کا تعلق قبیلہ بَنُو سَاعِدَہ بن کعب سے تھا۔ایک دوسرے قول کے مطابق آپ بنو سَاعِدہ بن کعب