خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 113
خطبات مسرور جلد 17 113 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 مارچ 2019 ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خوات ان کو اپنے گھوڑے پر بنو قریظہ کی طرف روانہ فرمایا اور اس گھوڑے کا نام جناح تھا۔(مستدرك على الصحيحين جلد 3 صفحه 466 کتاب معرفة الصحابه باب ذكر مناقب خوات بن جبير الانصاری حدیث 5747 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) حضرت خوات یہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم حضرت عمرؓ کے ساتھ حج کے لیے روانہ ہوئے۔اس قافلے میں ہمارے ساتھ حضرت ابوعبیدہ بن جراح اور حضرت عبد الرحمن بن عوف بھی تھے۔لوگوں نے کہا کہ ہمیں ضرار ، (ضرار بن خطاب قریش کا ایک شاعر تھا جو فتح مکہ پر ایمان لائے تھے) کے اشعار سناؤ۔حضرت عمر نے فرمایا کہ ابو عبد اللہ یعنی خوات کو اپنے اشعار سنانے دو۔اس پر میں انہیں اشعار سنانے لگا یہاں تک کہ سحر ہو گئی۔تب حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ بس کر دو کہ اب وقت سحر ہے۔(الاصابه جلد 2صفحه 292 خوّات بن جبير مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء)(الطبقات الكبرى جلد 6صفحه 10 ضرار بن الخطاب مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت ربیعہ بن اكثم۔ان کی کنیت ابویزید تھی۔حضرت ربیعہ ، چھوٹے قد اور موٹے جسم کے مالک تھے۔آپ کا تعلق قبیلہ اسد بن خزیمہ سے تھا۔حضرت ربیعہ ان کا شمار مہاجر صحابہ میں ہوتا ہے۔ہجرت مدینہ کے بعد آپ نے چند دیگر صحابہ کے ہمراہ حضرت مبشر بن عبدالمنذر کے گھر میں قیام کیا۔غزوہ بدر میں شمولیت کے وقت آپ کی عمر تیس برس تھی۔غزوہ بدر کے علاوہ آپ نے غزوہ احد، غزوہ خندق، صلح حدیبیہ اور غزوہ خبیر میں بھی شرکت کی اور غزوہ خیبر میں ہی شہادت کا رتبہ بھی پایا۔آپ کو حارث نامی یہودی نے نطاق کے مقام پر شہید کیا۔نطاق خبیر میں موجود ایک قلعہ کا نام ہے۔شہادت کے وقت آپ کی عمر 37 سال تھی۔(اسد الغابه جلد 2 صفحه 257 ربيعه بن اکثم مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء)(الطبقات الكبرى جلد 3صفحه 66,70 عبد الله بن جحش ربيعه بن اكثم مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) الله پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت رِفَاعَه بن عمر و الجُهَنِی۔ان کا نام وَدِيعَہ بن عمر و بھی رضى عنه بیان کیا جاتا ہے۔حضرت رفاعہ اللہ غزوہ بدر اور اُحد میں شریک ہوئے۔آپ انصار کے قبیلہ بنو نجار کے حلیف تھے۔(اسد الغابه جلد 2 صفحه 287 رفاعة بن عمرو الجهني مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت زید بن ودیعہ اللہ حضرت زید کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج سے تھا۔آپ نے بیعت عقبہ ، غزوہ بدر اور اُحد میں بھی شرکت کی اور غزوہ اُحد میں ہی شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔(اسد الغابه جلد 2 صفحه 377 زيد بن وديعة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) حضرت زید کی والدہ اور زید بنت حارث تھیں۔آپ کی اہلیہ کا نام زینب بنت سھل تھا۔جس سے آپ کے تین بچے سعد بن زید۔امامہ اور اُمّ کلثوم شامل ہیں۔آپ کے بیٹے سعد حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں عراق آگئے تھے اور وہاں عَقَرْقُوفی کے مقام پر آباد ہو گئے تھے۔عَقَرْقُوفُ عراق کے شہر بغداد