خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 112 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 112

خطبات مسرور جلد 17 112 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 مارچ2019 اسلام قبول کیا ہے وہ اونٹ نہیں بھا گا۔آپ نے تین بار فرمایا کہ اللہ تم پر رحم کرے۔پھر اس کے بعد آپ نے کبھی مجھے اس بارے میں کچھ نہیں کہا۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 362 تا 364 عبدالله بن جبير، خوات بن جبير مطبوعة دار الكتب العلميه بیروت 1990ء)(اسدالغابه جلد 2 صفحه 190 خوات بن جبير مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) گویا ایک تو اس بات سے کہ مجھ سے نہ چھپاؤ مجھے پتہ ہے اصل قصہ کیا ہے۔دوسرے اس طرح بیٹھ کے بلا وجہ لوگوں کی مجلس میں ان کی باتیں سننا جو ہے وہ غلط چیز ہے۔حضرت خوات یہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں بیمار ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری عیادت فرمائی۔جب میں شفایاب ہو گیا تو آپ نے فرمایا۔اے خوات! تمہارا جسم تندرست ہو گیا ہے۔پس جو تم نے اللہ سے وعدہ کیا ہے وہ پورا کرو۔میں نے عرض کیا۔میں نے اللہ سے کوئی وعدہ نہیں کیا۔آپ نے فرمایا کہ کوئی بھی مریض ایسا نہیں کہ جب وہ بیمار ہوتا ہے تو کوئی نذر نہیں مانتا یا نیت نہیں کرتا۔ضرور کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے تندرست کر دے تو میں یہ کروں گا، وہ کروں گا۔پس اللہ سے کیا ہو اوعدہ وفا کرو۔جو بھی تم نے بات کہی ہے اسے پورا کرو۔(مستدرك على الصحيحين جلد 3 صفحه 467 كتاب معرفة الصحابه باب ذكر مناقب خوات بن جبير الانصارى حديث 5750 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) پس یہ ایسی بات ہے جو ہم سب کے لیے قابل غور اور قابل توجہ ہے۔غزوہ خندق کے موقع پر جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو قریظہ کی عہد شکنی کی اطلاع ملی تو آپ نے ایک وفد ان کی طرف بھیجا۔اس بارے میں سیرت خاتم النبیین میں جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے وہ واقعہ اس طرح ہے کہ " آنحضرت صلی علیم کو جب بنو قریظہ کی اس خطر ناک غداری کا علم ہوا تو آپ نے پہلے تو دو تین دفعہ خفیہ خفیہ زبیر بن العوام کو دریافت حالات کے لیے بھیجا اور پھر باضابطہ طور پر قبیلہ اوس و خزرج کے رئیس سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ اور بعض دوسرے با اثر صحابہ کو ایک وفد کے طور پر بنو قریظہ کی طرف روانہ فرمایا اور ان کو یہ تاکید فرمائی کہ اگر کوئی تشویشناک خبر ہو تو واپس آکر اس کا برملا اظہار نہ کریں بلکہ اشارہ کنایہ سے کام لیں تاکہ لوگوں میں تشویش نہ پیدا ہو۔جب یہ لوگ بنو قریظہ کے مساکن میں پہنچے۔" جہاں ان کی رہائش تھی، گھر تھے " اور ان کے رئیس کعب بن اسد کے پاس گئے تو وہ بد بخت ان کو نہایت مغرورانہ اند از سے ملا اور سعدین " یعنی سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہؓ کی طرف سے معاہدہ کا ذکر ہونے پر وہ اور اس کے قبیلہ کے لوگ بگڑ کر بولے کہ 'جاؤ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور ہمارے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے۔یہ الفاظ سن کر صحابہ کا یہ وفد وہاں سے اٹھ کر چلا آیا اور سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مناسب طریق پر آنحضرت صلی ا ورم کو حالات سے اطلاع دی۔" (سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 584-585) یہ بھی ہے کہ صحابہ کی اس صحبت میں حضرت خوات بن جبیر یہ بھی شامل تھے۔(سیرت ابن هشام صفحه 456 باب غزوة الخندق فى سنة خمس مطبوعه دار ابن حزم 2009ء)