خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 111 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 111

خطبات مسرور جلد 17 111 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 مارچ 2019 ابوصالح بھی تھی۔حضرت خوات لے کا تعلق بنو ثعلبہ سے تھا اور حضرت خوات بن جبير حضرت عبد الله بن جبیر کے بھائی تھے جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ اُحد میں دڑے کی حفاظت کے لیے پچاس تیر اندازوں کے ساتھ مقرر فرمایا تھا، یعنی ان کے بھائی کو (مقرر فرمایا۔) حضرت خوات الله در میانے قد کے تھے۔آپ نے چالیس ہجری میں 74 برس کی عمر میں مدینہ میں وفات پائی۔ایک روایت کے مطابق وفات کے وقت آپ کی عمر 94 سال تھی۔آپؐ مہندی اور وسمہ کا خضاب لگایا کرتے تھے۔حضرت خوات یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ بدر کے لیے روانہ ہوئے لیکن راستے میں ایک پتھر کی نوک لگنے سے آپ زخمی ہو گئے۔اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو واپس مدینہ بھجوا دیا۔لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو غزوہ بدر کے مال غنیمت اور اجر میں شامل فرمایا۔گویا آپ ان لوگوں کی طرح ہی تھے جو غزوہ بدر میں شامل ہوئے۔آپ غزوہ اُحد ، خندق اور دیگر تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے۔حضرت خوات این بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مقام مَرَّ الظُّهْرَان میں پڑاؤ کیا۔کہتے ہیں کہ میں اپنے خیمے سے نکلا تو کچھ عور تیں باتیں کر رہی تھیں۔مجھے یہ دیکھ کر دلچسپی پیدا ہوئی۔پس میں واپس گیا اور ایک بجبہ پہن کر ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔اپنے آپ کو چھپا لیا اور عورتوں کی باتیں سننے کے لیے وہاں بیٹھ گیا۔اسی اثناء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر تشریف لائے۔جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو ڈر گیا اور آپ سے کہا کہ میرا اونٹ بھاگ نکلا ہے میں اسے ڈھونڈ رہا ہوں۔میں کھڑا ہو گیا اور فوری طور پہ عرض کیا۔آپ چل پڑے۔آگے چلے گئے۔میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے ہولیا۔آپ نے اپنی چادر مجھے پکڑائی جو اوڑھی ہوئی تھی اور جھاڑیوں میں چلے گئے اور رفع حاجت کے بعد آپ نے وضو کیا اور واپس آئے۔آپ کی داڑھی سے پانی کے قطرے آپ کے سینے پر گر رہے تھے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازراہِ مزاح مجھ سے پوچھا کہ اے ابو عبد اللہ ! اس اونٹ نے کیا کیا ؟ اب اونٹ تو کوئی نہیں گیا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو احساس ہو گیا تھا کہ ویسے ہی یہ باتیں سننے کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ چیز اچھی نہیں ہے۔بہر حال کہتے ہیں۔پھر ہم روانہ ہو گئے۔اس کے بعد جب بھی آپ مجھے ملتے، سلام کرتے اور پوچھتے کہ ابو عبد اللہ اس اونٹ نے کیا کیا؟ جب اس طرح بار بار ہونا شروع ہوا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اس حوالے سے مزاح کے طور پہ مجھے چھیڑتے تھے تو میں مدینہ میں چھپ کر رہنے لگا۔اور مسجد اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے الگ رہنے لگا۔جب اس بات کو کچھ عرصہ گزر گیا تو مسجد گیا اور نماز کے لیے کھڑا ہوا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے حجرے سے باہر تشریف لے آئے۔آپ نے دور کعت نماز ادا کی۔میں اس امید پر نماز لمبی کر تا گیا کہ آپ تشریف لے جائیں اور مجھے چھوڑ دیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو عبد اللہ ! جتنی مرضی نماز لمبی کر لو میں یہیں ہوں۔میں نے اپنے دل میں کہا کہ اللہ کی قسم ! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معذرت کر کے آپ کا دل اپنے بارے میں صاف کر دوں گا۔جب میں نے سلام پھیر اتو آپ نے فرمایا کہ ابو عبد اللہ ! تم پر سلامتی ہو۔اس اونٹ کے بھاگ جانے کا کیا معاملہ ہے ؟ میں نے عرض کیا۔اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے جب سے میں نے