خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 110 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 110

خطبات مسرور جلد 17 110 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 01 مارچ 2019 مہاجرین قبا پہنچ گئے تو یہ انصار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مکہ گئے اور آپ کے اصحاب کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ آئے۔اسی مناسبت سے انہیں انصار مہاجرین کہا جاتا ہے۔ان اصحاب میں حضرت ذکوان بن عَبْد قَیس ، حضرت عقبہ بن وهب ، حضرت عباس بن عبادہ ہے، اور حضرت زیاد بن لبید اللہ شامل تھے۔اس کے بعد تمام مسلمان مدینہ چلے گئے تھے سوائے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابو بکر حضرت علی کے یاوہ جو فتنہ میں تھے ، قید میں تھے ، مریض تھے یا وہ ضعیف اور کمزور تھے۔الطبقات الكبرى جلد 1 صفحه 175 ذکر اذن رسول الله عله الله للمسلمين فى الهجرة الى المدينة مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) سهيل بن ابی صالح سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُحد کے لیے نکلے۔آپ نے ایک مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ اس طرف کون جائے گا ؟ بنی ذُرِّیق میں سے ایک صحابی حضرت ذکوان بن عبد قيس أبو السبع کھڑے ہوئے۔کہنے لگے یار سول اللہ ! میں جاؤں گا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم کون ہو ؟ حضرت ذکوان نے کہا میں ذکوان بن عَبْدِ قَيْسِ ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ جانے کا ارشاد فرمایا۔آپ نے یہ بات تین دفعہ دہرائی۔پھر آپ نے فرمایا کہ فلاں فلاں جگہ پر چلے جاؤ۔اس پر حضرت ذکوان بن عَبد قیس نے عرض کی یا رسول اللہ ! یقیناً میں ہی ان جگہوں پر جاؤں گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی ایسے شخص کو دیکھنا چاہتا ہے جو کل جنت کے سبزے پر چل رہا ہو گا تو اس شخص کی طرف دیکھ لے۔اس کے بعد حضرت ذکوان اپنے اہل خانہ کو الوداع کہنے گئے۔آپ کی ازواج اور بیٹیاں آپ سے کہنے لگیں کہ آپ ہمیں چھوڑ کر جارہے ہیں ! انہوں نے اپنا دامن ان سے چھڑایا اور تھوڑا دور ہٹ کر ان کی طرف رخ کر کے مخاطب ہوئے کہ اب بروز قیامت ہی ملاقات ہو گی۔اس کے بعد غزوہ اُحد میں ہی آپ نے شہادت کا رتبہ پایا۔(معرفة الصحابه لابی نعیم جلد 2 صفحه 248 ذكوان بن عبد قيس بن خالد حدیث 2621 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2002ء) غزوہ اُحد کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے دریافت فرمایا کہ کسی کو ذکوان بن عبد قیس کا علم ہے ؟ حضرت علی نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے ایک گھڑ سوار دیکھا جو ذکوان کا پیچھا کر رہا تھا یہاں تک کہ وہ ان کے قریب پہنچ گیا اور وہ یہ کہ رہا تھا کہ اگر آج تم زندہ بچ گئے تو میں نہیں بچ سکوں گا۔اس نے حضرت ذکوان ، جو کہ پیادہ پاتھے پر حملہ کر کے آپ کو شہید کر دیا اور انہوں نے عرض کیا کہ یہ کہتے ہوئے آپ پر وار کر رہا تھا کہ دیکھو میں ابنِ عِلاج ہوں۔حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس پر حملہ کیا اور اس کی ٹانگ پر اپنی تلوار مار کر نصف ران سے کاٹ ڈالا۔پھر اسے گھوڑے سے اتارا اور اسے قتل کر دیا۔حضرت علی فرماتے ہیں۔میں نے دیکھا تھا کہ وہ ابو الحكم بن اَخْنَس تھا۔(كتاب المغازى للواقدى جلد 1 صفحه 245 باب غزوه احد مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2013ء) پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت خوات بن جبير انصاری۔ان کی کنیت ابو عبد اللہ اور