خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 109 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 109

خطبات مسرور جلد 17 109 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 مارچ 2019 تھے۔دوسری روایت میں یہ ہے کہ آپ اپنے دونوں ہاتھوں سے کام کر لیتے تھے۔ایک طرح استعمال کر لیتے تھے۔اس لیے آپ کو ذوالیدین بھی کہتے تھے۔آپؐ کا تعلق قبیلہ بنو خُزاعہ سے تھا۔آپ بنوزُھرہ کے حلیف تھے۔حضرت عمیر مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں آئے تو حضرت سعد بن خیثمہ اللہ کے ہاں قیام کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی یزید بن حارث " کے ساتھ مؤاخات قائم فرمائی۔یہ دونوں صحابہ غزوہ بدر میں شہید ہو گئے تھے۔آپ غزوہ بدر میں شہید ہوئے جیسا کہ ذکر ہو گیا ہے اور آپ کو اُسامہ جشمی نے شہید کیا تھا۔شہادت کے وقت آپ کی عمر 30 سال سے زائد تھی۔طبقات الکبرای میں ابو اسامه جسمی نام آیا ہے کہ اس نے قتل کیا تھا۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه -124-125 ذواليدين و يقال ذو الشمالي مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء)(السيرة النبوية لابن هشام صفحه 327 باب من حضر بدرا من بنى زهرة وحلفائهم مطبوعه دار ابن حزم بيروت 2009ء) (اسد الغابه جلد 2 صفحه 217 ذو الشمالين مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت رافع بن یزید ہے۔ایک روایت میں آپ کا نام رافع بن زید اللہ بھی بیان کیا گیا ہے۔حضرت رافع بن یزید کا تعلق انصار کے قبیلہ اوس کی شاخ بَنُوزَعُورَاء بن عَبْدِ الْأَشْهَل سے تھا۔حضرت رافع الله کی والدہ عَقَرَب بنتِ مُعاذ مشہور صحابی حضرت سعد بن معاذ کی بہن تھیں۔حضرت رافع دین کے دو بیٹے اُسید اور عبد الرحمن تھے۔ان دونوں کی والدہ کا نام عَقْرَب بنتِ سَلَامہ تھا۔حضرت رافع غزوہ بدر و اُحد میں شریک ہوئے۔ایک روایت کے مطابق آپ غزوہ بدر کے دن سعید بن زید اللہ کے اونٹ پر سوار تھے۔آپ غزوہ اُحد میں شہید ہوئے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 337 رافع بن یزید مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء)(اسد الغابه جلد 2 صفحه 235 رافع بن زید مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) الله پھر جن صحابی کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت ذکوان بن عبد قیس ہے۔ان کی کنیت ابو السبع رضى عنه۔تھی۔حضرت ذکوان اللہ کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنوزُریق سے تھا۔آپ کی کنیت ابوالشبع ہے۔آپ بیعت عقبہ اولیٰ اور ثانیہ میں بھی شریک رہے۔آپ کی ایک نمایاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ آپ مدینہ سے ہجرت کر کے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مکہ گئے۔اس وقت تک آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ہی تھے۔آپ کو انصاری مہاجر کہا جاتا تھا۔آپ وہاں مکہ جا کے کچھ عرصہ رہے۔یا سمجھنا چاہیے کہ ہجرت کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے۔آپ غزوہ بدر اور احد میں شریک تھے اور غزوہ احد میں شہادت کا رتبہ پایا۔آپ کو ابو حَكَمُ بن اَخْنَس نے شہید کیا تھا۔حضرت ذکوان بن عبد قیس کو انصاری مہاجر کہا جاتا ہے۔(اسد الغابه جلد 2صفحه 210 ذكوان بن عبد قيش مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) علامہ ابن سعد طبقات کبری میں لکھتے ہیں کہ ہجرت مدینہ کے وقت جب مسلمان مدینہ روانہ ہوئے تو قریش سخت ناراض تھے اور جو نو جو ان ہجرت کر کے جاچکے تھے ان پر انہیں بہت غصہ آیا۔انصار کے ایک گروہ نے عقبہ ثانیہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی اور اس کے بعد واپس مدینہ چلے گئے تھے۔جب ابتدائی