خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 108
خطبات مسرور جلد 17 108 9 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 01 مارچ 2019 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 01/ مارچ 2019ء بمطابق 01 / امان 1398 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یو کے تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بدری صحابہ کے واقعات کا یا ان کی زندگی کے پہلوؤں کا سلسلہ چل رہا ہے۔آج بھی اس سلسلہ میں چند صحابہ کا ذکر کروں گا۔حضرت خولی بن ابی خوبی۔حضرت خولی اللہ غزوہ بدر اور احد اور تمام غزوات میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک رہے۔ابو معشر اور محمد بن عمر کہتے ہیں کہ حضرت خولی یہ غزوہ بدر میں اپنے بیٹے کے ساتھ شریک ہوئے مگر انہوں نے بیٹے کا نام ذکر نہیں کیا۔محمد بن اسحاق کہتے ہیں ( یہ سارے تاریخ دان ہیں ) کہ حضرت خولی ، اپنے بھائی مالک بن ابی خوبی کے ساتھ بدر میں شریک تھے۔ایک قول کے مطابق غزوہ بدر میں حضرت خوبی ہے اور آپ کے دو بھائی ھیلال بن ابی خولی دی، اور حضرت عبد اللہ بن ابی خولی یہ بھی شامل تھے۔حضرت خولی یہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ خلافت میں وفات پائی۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 299 خولی بن ابی خولی مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) رضی عنہ دوسرے صحابی جن کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت رافع بن الْمُعَلی۔حضرت رافع بن المعلی اللہ کا تعلق قبیلہ خزرج کی شاخ بَنُو حَبِیب سے تھا۔آپ کی والدہ کا نام ادام بنت عوف تھا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت رافع اللہ اور حضرت صفوان بن بیضاء کے درمیان عقد مؤاخات قائم فرمایا۔یہ دونوں اصحاب غزوہ بدر میں شریک تھے۔بعض روایات کے مطابق دونوں ہی غزوہ بدر میں شہید ہوئے۔ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضرت صفوان بن بيضاء اللہ غزوہ بدر میں شہید نہیں ہوئے تھے۔موسیٰ بن عُقْبَه کی روایت ہے کہ حضرت رافع ، اور آپ کے بھائی ھلال بن معلی ، دونوں بھائی غزوہ بدر میں شریک ہوئے۔حضرت رافع کو عکرمہ بن ابو جہل نے غزوہ بدر میں شہید کیا تھا۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 450 رافع بن المعلى مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) (الاستيعاب جلد 2 صفحه 484-485 رافع بن المعلى مطبوعه دار الجيل بيروت 1992ء) اگلے صحابی جن کا ذکر ہے ان کا نام ہے حضرت ذُو الشمالين عمير بن عَبْدِ عمر و۔ان کا اصل نام عمیر دیا تھا اور کنیت ابو محمد۔حضرت عمیر کی کنیت ابو محمد تھی جیسا کہ بتایا۔ابن ہشام بیان کرتے ہیں کہ آپ کو ذُوالشَّمَالتین کہا جاتا تھا۔یہ نام نہیں تھا بلکہ یہ ان کو ایک لقب مل گیا تھا کیونکہ آپ بائیں ہاتھ سے زیادہ کام لیتے