خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 106
خطبات مسرور جلد 17 106 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 فروری 2019 مصافحہ کیا اور پوچھا میاں ! آج اللہ تعالیٰ سے کیا کچھ لے لیا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے تو یہی مانگا ہے کہ الہی ! مجھے میری آنکھوں سے اسلام کو زندہ کر کے دکھا اور یہ کہہ کر آپ اندر تشریف لے گئے۔اسلام کی فتح کا دن دیکھنے کی یہ بے قرار تمنا جو اس نو عمری میں آپ کے دل میں تھی اور آپ کی نو عمری میں ہی وہ پھر پھل بھی لانے لگی جب آپ کو جوانی میں ہی اللہ تعالیٰ نے خلافت کی روا پہنائی۔(ماخوذ از سوانح فضل عمر جلد 1 صفحه 151) حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب نے تشحیذ الاذھان میں اپنی ایک دعا کا ذکر کیا ہے جو 1909ء میں آپ نے لکھا۔اس مضمون میں رمضان کی برکات کا ذکر کرنے کے بعد آپ نے لکھا کہ : " میں رسالہ تشخیز الاذھان کے لیے اپنی میز میں سے ایک مضمون تلاش کر رہا تھا کہ مجھے ایک کاغذ ملاجو میری ایک دعا تھی جو میں نے پچھلے رمضان میں کی تھی۔مجھے اس دعا کے پڑھنے سے زور سے تحریک ہوئی کہ اپنے احباب کو بھی اس طرف متوجہ کروں۔نا معلوم کس کی دعاسنی جائے اور خدا کا فضل کس وقت ہماری جماعت پر ایک خاص رنگ میں نازل ہو۔میں اپنا درد دل ظاہر کرنے کے لیے اس دعا کو یہاں نقل کر دیتا ہوں کہ شاید کسی سعید الفطرت کے دل میں جوش پید اہو اور وہ اپنے رب کے حضور میں اپنے لیے اور جماعت احمدیہ کے لیے دعاؤں میں لگ جائے جو کہ میری اصل غرض ہے۔وہ دعا یہ ہے۔اے میرے مالک میرے قادر خدا۔میرے پیارے مولیٰ میرے راہمنا۔اے خالق ارض و سماء۔اے متصرف آب و ہوا۔اے وہ خدا جس نے آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ تک لاکھوں ہادیوں اور کروڑوں رہنماؤں کو دنیا کی ہدایت کے لیے بھیجا۔اے وہ علی و کبیر جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسا عظیم الشان رسول مبعوث کیا۔اے وہ رحمان جس نے مسیح سارہنما آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں میں پیدا کیا۔اے نور کے پیدا کرنے والے، اے ظلمات کے مٹانے والے ! تیرے حضور میں ، ہاں صرف تیرے ہی حضور میں مجھ سا ذلیل بندہ جھکتا اور عاجزی کرتا ہے کہ میری صداسن اور قبول کر کیونکہ تیرے ہی وعدوں نے مجھے جرآت دلائی ہے کہ میں ترے آگے کچھ عرض کرنے کی جرات کروں۔میں کچھ نہ تھا تو نے مجھے بنایا۔میں عدم میں تھا تو مجھے وجود میں لایا۔میری پرورش کے لیے اربعہ عناصر بنائے اور میری خبر گیری کے لیے انسان کو پیدا کیا جب میں اپنی ضروریات کو بیان تک نہ کر سکتا تھا۔تو نے مجھ پر وہ انسان مقرر کیے جو میری فکر خود کرتے تھے۔پھر مجھے ترقی دی اور میرے رزق کو وسیع کیا۔اے میری جان ! ہاں اے میری جان ! تو نے آدم کو میرا باپ بننے کا حکم دیا اور حوا کو میری ماں مقرر کیا۔اور اپنے غلاموں میں سے ایک غلام کو جو تیرے حضور عزت سے دیکھا جاتا تھا، اس لیے مقرر کیا کہ وہ مجھ سے نا سمجھ اور نادان اور کم فہم انسان کے لیے تیرے دربار میں سفارش کرے اور تیرے رحم کو میرے لیے حاصل کرے۔میں گناہگار تھا تو نے ستاری سے کام لیا۔میں خطا کار تھا تو نے غفاری سے کام لیا۔ہر ایک تکلیف اور دکھ میں میر اساتھ دیا۔جب کبھی مجھ پر مصیبت پڑی تو نے میری مدد کی اور جب کبھی میں گمراہ ہونے لگا تو نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔باوجود میری شرارتوں کے تو نے چشم پوشی کی۔اور باوجو د میرے دور جانے کے تو میرے قریب ہوا۔میں تیرے نام سے غافل تھا مگر تو نے مجھے یاد رکھا۔ان موقعوں پر جہاں والدین اور عزیز و اقرباء اور دوست و غمگسار مدد سے قاصر