خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 105 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 105

خطبات مسرور جلد 17 105 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 فروری 2019 چند در چند میں ان کے ارشاد کی تعمیل سے قاصر رہا مگر صاحبزادہ صاحب کی اس بلند نظرانہ مہربانی وشفقت کا از حد مشکور ہوں۔صاحبزادہ صاحب کا زہد و تقوی اور ان کی وسعت خیالانہ سادگی ہمیشہ یاد رہے گی۔" (سوانح فضل عمر جلد 1 صفحہ 324) آپ کی عبادتوں کے معیار کی بچپن میں ہی کیا حالت تھی اس بارے میں " حضرت مفتی محمد صادق صاحب بھی آپ کے بچپن کے اساتذہ میں سے تھے اپنے تاثرات کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں۔" فرماتے ہیں کہ " چونکہ عاجز نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت 1890ء کے آخیر میں کرلی تھی اور اس وقت سے ہمیشہ آمد و رفت کا سلسلہ متواتر جاری رہا۔میں حضرت اولو العزم مرزا بشیر الدین محمود احمد کو ان کے بچپن سے دیکھ رہا ہوں کہ کس طرح ہمیشہ ان کی عادت حیا اور شرافت اور صداقت اور دین کی طرف متوجہ ہونے کی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دینی کاموں میں بچپن سے ہی ان کو شوق تھا۔نمازوں میں اکثر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ جامع مسجد میں جاتے اور خطبہ سنتے۔" فرماتے ہیں کہ " ایک دفعہ مجھے یاد ہے جب آپ کی عمر 10 سال کے قریب ہو گی آپ مسجد اقصیٰ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ نماز میں کھڑے تھے اور پھر سجدہ میں بہت رور ہے تھے۔بچپن سے ہی آپ کو فطر اللہ کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ خاص تعلق محبت تھا۔" (سوانح فضل عمرؓ جلد 1 صفحہ 116 تا 117) پھر ایک اور واقعہ ہے آپ کی گریہ وزاری کرنے کا اور سجدوں میں دیر تک پڑے رہنے کا جس سے بڑوں کو بھی بڑا تعجب ہوا کرتا تھا اور ایسی حالت میں جبکہ ظاہری طور پر بڑوں کو یہ بھی پتہ ہو کہ کوئی صدمہ بھی نہیں ہے ایسا یا فکر کی کوئی بات بھی نہیں ہے تو اس وقت جب بڑے آپ کی گریہ وزاری دیکھتے تھے تو ان کو بڑا تعجب ہو تا تھا اور سوال اٹھتا تھا کہ آخر اس بچے پر کیا بیتی ہے جو راتوں کو چھپ چھپ کر اٹھتا ہے اور بلک بلک کر اپنے رب کے حضور روتا ہے اور اپنے معصوم آنسوؤں سے سجدہ گاہ کو تر کر دیتا ہے۔حضرت مرزا طاہر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے جب سوانح لکھی تو آپ لکھتے ہیں کہ یہی تعجب شیخ غلام احمد صاحب واعظ رضی اللہ عنہ کے دل میں بھی پیدا ہو جو ایک نو مسلم تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر اسلام میں داخل ہوئے تھے اور اخلاص اور ایمان میں ایسی ترقی کی کہ نہایت عابد و زاہد اور صاحب کشف و الہام بزرگوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔شیخ غلام احمد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں نے یہ ارادہ کیا کہ آج کی رات مسجد مبارک میں گزاروں گا اور تنہائی میں اپنے مولیٰ سے جو چاہوں گا مانگوں گا کہتے ہیں مگر جب میں مسجد میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ کوئی شخص سجدے میں پڑا ہوا ہے اور الحاج سے دعا کر رہا ہے۔اس کے اس الحاح کی وجہ سے میں نماز بھی نہ پڑھ سکا اور اس شخص کی دعا کا اثر مجھ پر بھی طاری ہو گیا اور میں بھی دعا میں محو ہو گیا اور میں نے دعا کی کہ یا الہی ! یہ شخص تیرے حضور سے جو کچھ بھی مانگ رہا ہے وہ اس کو دے دے اور میں کھڑا کھڑا تھک گیا کہ یہ شخص سر اٹھائے تو معلوم کروں کہ کون ہے۔فرماتے ہیں کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ مجھ سے پہلے وہ کتنی دیر سے آئے ہوئے تھے مگر جب آپ نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت میاں محمود احمد صاحب ہیں۔میں نے السلام علیکم کہا اور