خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 104 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 104

خطبات مسرور جلد 17 104 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 فروری 2019 رحمت کے نشان کے دیا گیا تھا اور جس کی نسبت یہ کہا گیا تھا کہ وہ حسن و احسان میں تیر انظیر ہو گا۔دوسری بات جو اس تقریر کے متعلق قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ جب تقریر ختم ہو چکی تو حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جن کی ساری عمر قرآن شریف پر تدبر کرنے میں صرف ہوئی تھی اور قرآن کریم جن کی روح کی غذا تھی فرمایا کہ میاں نے بہت سی آیات کی ایسی تفسیر کی ہے جو میرے لیے بھی نئی تھی۔مولوی صاحب لکھتے ہیں کہ یہ آپ کی پہلی تقریر تھی جو آپ نے جماعت کے سامنے کی اور اس پہلی تقریر میں قرآن شریف کے وہ معارف، یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد وہ معارف بیان فرمائے ہیں جن کی نسبت حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے عالم قرآن نے یہ اعتراف فرمایا کہ یہ ان کے لیے بھی جدید معارف ہیں۔پس یہ معارف اس نوجوان کو کس نے سکھائے ؟ یہ حکمت اور یہ علم آپ کو اس زمانہ جوانی میں کس نے دیا۔اسی نے جو قرآن شریف میں حضرت یوسف علیہ السلام کی نسبت فرماتا ہے۔وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّ ذَاتَيْنَهُ حُكْمًا وَ عِلْمًا وَ كَذلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (یوسف:23) اور جب وہ اپنی مضبوطی کی عمر کو پہنچا تو اسے ہم نے حکمت اور علم عطا کیا اور اسی طرح ہم احسان کرنے والوں کو جزا دیا کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ آپ نے صرف عام طور پر دانائی اور حکمت کی باتیں بیان نہ فرمائیں بلکہ قرآن شریف کے اچھوتے معارف بیان فرمائے اور اللہ تعالیٰ قرآن شریف کے متعلق فرماتا ہے لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعہ (80)۔اس کا ترجمہ یہ ہے کہ کوئی اسے چھو نہیں سکتا سوائے پاک کیے ہوئے لوگوں کے۔کہتے ہیں کہ پس لڑکپن کی خلوت سے نکلتے ہی آپ کا لوگوں کے سامنے قرآن شریف کے جدید اور لطیف معارف بیان فرمانا اس بات کی ایک بین شہادت ہے کہ آپ نے اپنا لڑکپن اللہ تعالیٰ کی خاص تربیت میں گزارا اور آپ بچپن میں ہی مطہرین کی جماعت میں داخل تھے۔(ماخوذ از سوانح فضل عمر جلد 1 صفحہ 217تا219) آپ کی سیرت سے متعلق ایک غیر از جماعت صحافی کے تاثرات ہیں۔یہ بیان کرنے سے پہلے انہوں نے صحافی کے تعارف میں لکھا ہے کہ : "مارچ 1913ء میں ایک غیر احمدی صحافی محمد اسلم صاحب امر تسر سے قادیان آئے اور چند دن قیام کر کے واپس چلے گئے۔انہوں نے جماعت کا نہایت قریب سے مطالعہ کرنے کے بعد اپنے تاثرات پر ایک تفصیلی بیان دیا۔اس نے حضرت صاحبزادہ صاحب کے متعلق لکھا: " ( حضرت ) صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحب سے بھی مل کر ہمیں از حد مسرت ہوئی۔صاحبزادہ صاحب نہایت ہی خلیق اور سادگی پسند انسان ہیں۔علاوہ خوش خلقی کے کہیں بڑی حد تک معاملہ فہم و مدبر بھی ہیں۔علاوہ دیگر باتوں کے جو گفتگو صاحبزادہ صاحب موصوف اور میرے در میان ہندوستان کے مستقبل پر ہوئی، اس کے متعلق صاحبزادہ صاحب نے جو رائے اقوام عالم کے زمانہ ماضی کے واقعات کی بنا پر ظاہر فرمائی وہ نہایت ہی زبر دست مدبرانہ پہلو لیے ہوئے تھی۔" یہ خلافت سے پہلے کی بات ہے۔1913ء کا ذکر ہے۔حضرت خلیفہ اول کے زمانے کی بات ہے۔پھر لکھتے ہیں کہ "صاحبزادہ صاحب نے مجھ سے از راہ نوازش بہت کچھ مخلصانہ پیرایہ میں یہ خواہش ظاہر فرمائی کہ میں کم از کم ایک ہفتہ قادیان میں رہوں۔اگر چہ بوجوہ