خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 103 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 103

خطبات مسرور جلد 17 103 مخطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 فروری 2019 وہ جلد جلد بڑھے گا کے مصداق بننے والے آپ ہی ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اسی دینی جوش کو محسوس فرمایا۔چنانچہ آپ نے ایک موقع پر فرمایا کہ "میاں محمود میں اس قدر دینی جوش پایا جاتا ہے کہ میں بعض اوقات ان کے لیے خاص طور پر دعا کرتا ہوں۔" تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 26) یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ ہیں۔یقیناً یہ دعا اس لیے ہوئی اور یہی کرتے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ اسے وہی بیٹا بنادے جس کی خبر دی گئی تھی اور اس پر اپنے فضلوں کی بارش کو تیز کر دے اور تمام خوشخبریاں اس کے حق میں پوری ہوں۔حضرت مرزاطاہر احمد صاحب نے جو سیرت لکھی ہے اس میں ایک جگہ آپ خلیفہ المسیح الرابع لکھتے ہیں کہ خلافت اولیٰ کی ابتدا میں حضرت صاحبزادہ صاحب کی عمر 19 سال کی تھی اور حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کے وقت آپ اپنی عمر کے 26 ویں سال میں داخل ہو چکے تھے۔اس نو عمری میں آپؐ کی تقریر و تحریر کا جو رنگ تھا اس کے چند نمونے، کہتے ہیں میں پیش کرتا ہوں۔آپ کے خیالات اور افکار میں ایک بزرگ مفکر کی سی پختگی آچکی تھی۔آپ کے الفاظ اثر اور جذب اور خلوص اور گداز میں گوندھے ہوئے تھے۔کلام تصنع سے نا آشنا تھا اور تحریر تکلف سے پاک تھی۔تقریر میں ایک طبعی روانی تھی اور تحریر سلاست کا ایک بہتا ہوا دریا تھی۔دونوں ہی قرآنی علوم اور عرفان کے پانی سے لبریز اور دل و دماغ کو بیک وقت سیراب کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد 19 سال کی عمر میں آپ نے جو پہلی تقریر کی اس کے متعلق ایک صاحب علم و فضل بزرگ حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک اور واقعہ جس کا میں اس مضمون میں ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ حضور رضی اللہ عنہ کی پہلی تقریر ہے۔یعنی مولوی صاحب کے زمانے میں تو زندہ تھے، حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی پہلی تقریر ہے جو حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد پہلے جلسہ سالانہ کے موقع پر کی۔پہ جلسہ مدرسہ احمدیہ کے صحن میں منعقد ہوا۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور کے دائیں طرف سٹیج پر رونق افروز تھے۔سٹیج کا رخ جانب شمال تھا۔اس تقریر کے متعلق دو باتیں قابل ذکر ہیں۔مولوی شیر علی صاحب لکھتے ہیں۔اوّل عجیب بات یہ تھی کہ اس وقت آپ کی آواز اور آپ کی ادا اور آپ کا لہجہ اور طرز تقریر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آواز اور طرز تقریر سے ایسے شدید طور پر مشابہ تھے کہ اس وقت سننے والوں کے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی، جوا بھی تھوڑا عرصہ ہی ہوا تھا ہم سے جدا ہوئے تھے ، یاد تازہ ہو گئی اور سامعین میں بہت سے ایسے تھے جن کی آنکھوں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس آواز کی وجہ سے جو ان کے پسر موعودؓ کے ہونٹوں سے اس وقت اس طرح پہنچ رہی تھی جس طرح گراموفون سے ایک نظروں سے غائب انسان کی آواز پہنچتی ہے۔آنسو جاری ہو گئے اور ان آنسو بہانے والوں میں ایک خاکسار بھی تھا۔اگر یہ کہنا درست ہے کہ انسان کی روح دوسرے پر اترتی ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روح آپ پر اتر رہی تھی اور اس بات کا اعلان کر رہی تھی کہ یہ ہے میرا پیارا بیٹا جو مجھے بطور