خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 102
خطبات مسرور جلد 17 102 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 فروری 2019 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ اول نے پھر مجھ سے کہا کہ میاں مجھ سے بخاری تو پوری پڑھ لو۔دراصل میں نے آپ کو بتادیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجھے فرمایا کرتے تھے کہ مولوی صاحب سے قرآن اور بخاری پڑھ لو۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی میں نے آپ سے قرآن اور بخاری پڑھنا شروع کر دی گونانے ہوتے رہے۔اسی طرح طب بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہدایت کے ماتحت میں نے آپ سے شروع کر دی تھی۔طب کا سبق میں نے میر اسحاق صاحب نے ایک ہی دن شروع کیا تھا۔پھر آپؐ فرماتے ہیں کہ میر صاحب کا ایک لطیفہ ہے جو ہمارے گھر میں خوب مشہور ہوا کہ دوسرے ہی دن، جب پہلے دن کا سبق دونوں نے لے لیا تو دوسرے دن میر محمد اسحق صاحب اپنی والدہ سے کہنے لگے کہ اماں جان مجھے صبح جلدی جگا دیں کیونکہ مولوی صاحب دیر سے مطب میں آتے ہیں۔میں پہلے مطب میں چلا جاؤں گا تاکہ مریضوں کو نسخے لکھ کر دوں حالانکہ ابھی ایک ہی دن ان کو طب شروع کیے ہوئے ہو ا تھا۔غرض میں نے آپ سے طب بھی پڑھی اور قرآن کریم کی تفسیر بھی۔قرآن کریم کی تفسیر آپ نے دو مہینے میں ختم کرادی۔آپ مجھے اپنے پاس بیٹھا لیتے اور کبھی نصف اور کبھی پورا پارہ ترجمہ سے پڑھ کر سنا دیتے۔کسی کسی آیت کی تفسیر بھی کر دیتے۔اسی طرح بخاری آپ نے دو تین مہینے میں مجھے ختم کرادی۔ایک دفعہ رمضان کے مہینے میں آپ نے سارے قرآن کا درس دیا تو اس میں میں بھی شریک ہو گیا۔چند عربی کے رسالے بھی مجھے آپ سے پڑھنے کا اتفاق ہوا۔غرض یہ میری علمیت تھی۔مگر انہی دنوں میں جب یہ کورس ختم کر رہا تھا مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک رؤیا د کھا یا جو آپ کے علم میں ترقی کے بارے میں تھا۔(ماخوذ از سوانح فضل عمرؓ جلد 1 صفحہ 104 تا109) پس ہم دیکھتے ہیں کہ یہ ہے آپ کی علمی حالت، جس طرح علم حاصل کیا لیکن آپ کی تقاریر ، آپ کے خطابات، آپ کی تصانیف، آپؐ کی تفسیر قرآن اس بات کی گواہ ہیں کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو پڑھایا۔یقینا یہ بہت بڑا ثبوت ہے اور پیشگوئی کی سچائی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں جو 1906ء کا جلسہ سالانہ ہوا اس میں آپ نے پہلی پبلک تقریر کی۔اس تقریر کے علم و معرفت کا سامعین پر جو اثر ہوا اور جو ان کی کیفیت تھی اس کا کچھ اندازہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جلیل القدر صحابی اور قادرالکلام شاعر حضرت قاضی محمد ظہور الدین اکمل صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ان الفاظ سے ہو سکتا ہے۔آپؐ فرماتے ہیں "برج نبوت کا روشن ستارہ، اوج رسالت کا درخشندہ گوہر محمود سلمہ اللہ الودود شرک پر تقریر کرنے کے لئے کھڑا ہوا۔میں انکی تقریر خاص توجہ سے سنتا رہا۔کیا بتاؤں فصاحت کا ایک سیلاب تھا جو پورے زور سے بہ رہا تھا۔واقعی اتنی چھوٹی سی عمر میں خیالات کی پختگی اعجاز سے کم نہیں !میرے خیال میں یہ بھی حضور علیہ السلام کی صداقت کا ایک نشان ہے اور اسی سے ظاہر ہو سکتا ہے کہ مسیحیت مآب کی تربیت کا جو ہر کس درجہ کمال پر پہنچا ہوا ہے۔آپ نے روحانی کمالات پر عجیب طرز سے بحث کی۔" (الحکم۔10 جنوری 1907 وجوبلی نمبر 1939ء) (ماخوذ از سوانح فضل عمرؓ جلد 1 صفحہ 121-122) اس زمانے میں دینی سرگرمیاں اور جوش اور ذہنی و روحانی نشو و نمایہ بتارہی تھی کہ پیشگوئی کے الفاظ کہ