خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 101 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 101

خطبات مسرور جلد 17 101 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 فروری 2019 پایا جاتا ہے۔اس کا لکھا ہوا ایسا ہوتا ہے کہ ہم نے اس کے لکھے ہوئے پر ایک روپیہ انعام مقرر کر دیا تھا کہ اگر خود امۃ الرشید بھی پڑھ کر بتادے کہ اس نے کیا لکھا ہے تو ایک روپیہ انعام دیا جائے گا۔فرماتے ہیں کہ یہی حالت اس وقت میری تھی کہ مجھ سے بعض دفعہ اپنا لکھا ہوا بھی پڑھا نہیں جاتا تھا۔کہتے ہیں جب میر صاحب نے پرچہ دیکھا تو وہ جوش میں آگئے اور کہنے لگے یہ تو ایسا ہے جیسے لنڈے لکھتے ہوتے ہیں۔ان کی طبیعت بڑی تیز تھی۔غصے میں فوراً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس پہنچے۔میں بھی اتفاقا اس وقت گھر میں ہی تھا۔ہم تو پہلے ہی ان کی طبیعت سے ڈرا کرتے تھے۔بڑے غصے والی میر صاحب کی طبیعت تھی۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس شکایت لے کر پہنچے تو اور بھی ڈر پیدا ہوا کہ اب نامعلوم کیا ہو گا۔فرماتے ہیں کہ خیر میر صاحب آگئے اور حضرت صاحب سے کہنے لگے کہ محمود کی تعلیم کی طرف آپ کو ذرا بھی توجہ نہیں۔میں نے اس کا اردو کا امتحان لیا تھا۔آپ ذرا پر چہ تو دیکھیں اس کا اتنا بر اخط ہے کہ کوئی بھی یہ خط نہیں پڑھ سکتا۔پھر اسی جوش کی حالت میں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہنے لگے کہ آپ بالکل پروا نہیں کرتے اور لڑکے کی عمر برباد ہورہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب میر صاحب کو اس طرح جوش کی حالت میں دیکھا تو فرمایا بلاؤ حضرت مولوی صاحب کو۔آپ فرماتے ہیں جب حضرت مسیح موعود کو کوئی مشکل پیش آتی تو ہمیشہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ کو بلا لیا کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اول کو مجھ سے بڑی محبت تھی۔آپؐ تشریف لائے اور حسب معمول سر نیچے ڈال کر ایک طرف کھڑے ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب! میں نے آپ کو اس غرض کے لیے بلایا ہے کہ میر صاحب کہتے ہیں کہ محمود کا لکھا ہوا پڑھا نہیں جاتا۔میراجی چاہتا ہے کہ اس کا امتحان لے لیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس کا امتحان لے لیا جائے۔یہ کہتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قلم اٹھائی اور دو تین سطر میں ایک عبارت لکھ کر مجھے دی اور فرمایا اس کو نقل کرو۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ بس یہ امتحان تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لیا۔میں نے بڑی احتیاط سے اور سوچ سمجھ کر اس کو نقل کر دیا۔اول تو وہ عبارت کوئی زیادہ لمبی نہیں تھی۔دوسرے میں نے صرف نقل کرنا تھا اور نقل کرنے میں تو اور بھی آسانی ہوتی ہے کیونکہ اصل چیز سامنے ہوتی ہے پھر میں نے آہستہ آہستہ نقل کیا۔الف اور باء وغیرہ احتیاط سے ڈالے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کو دیکھا تو فرمانے لگے مجھے تو میر صاحب کی بات سے بڑا فکر پید اہو گیا تھا مگر اس کا خط تو میرے خط کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔حضرت خلیفہ اول پہلے ہی میری تعریف میں ادھار کھائے بیٹھے تھے فرمانے لگے حضور امیر صاحب کو تو یو نہی جوش آگیا ہے ورنہ اس کا خط تو بڑا اچھا ہے۔حضرت خلیفہ اول ہمیشہ مجھ سے فرمایا کرتے تھے کہ میاں تمہاری صحت ایسی نہیں کہ تم خود پڑھ سکو۔میرے پاس آجایا کرو میں پڑھتا جاؤں گا اور تم سنتے رہا کرو۔چنانچہ انہوں نے زور دے دے کر پہلے قرآن پڑھایا اور پھر بخاری پڑھادی۔یہ نہیں کہ آپ نے آہستہ آہستہ مجھے قرآن پڑھایا ہو بلکہ آپ کا طریق یہ تھا کہ آپ قرآن پڑھتے جاتے اور ساتھ ساتھ اس کا ترجمہ کرتے جاتے۔کوئی بات ضروری سمجھتے تو بتا دیتے ورنہ جلدی جلدی پڑھاتے جاتے۔آپ نے تین مہینے میں مجھے سارا قرآن پڑھا دیا تھا۔اس کے بعد کچھ ناغے ہونے لگ گئے۔