خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 100 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 100

خطبات مسرور جلد 17 100 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 فروری 2019 کو سمجھانے کے لیے بورڈ پر سوالات حل کیا کرتے تھے لیکن مجھے اپنی نظر کی کمزوری کی وجہ سے وہ دکھائی نہیں دیتے تھے۔کیونکہ جتنی دور بورڈ تھا اتنی دور تک میری بینائی کام نہیں دے سکتی تھی۔پھر زیادہ دیر تک میں بورڈ کی طرف یوں بھی نہیں دیکھ سکتا تھا کیونکہ نظر تھک جاتی تھی۔اس وجہ سے میں کلاس میں بیٹھنا فضول سمجھا کر تا تھا۔کبھی جی چاہتا تو چلا جاتا اور کبھی نہ جاتا۔ماسٹر فقیر اللہ صاحب نے ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس میرے متعلق شکایت کی کہ حضور یہ کچھ نہیں پڑھتا۔کبھی مدرسہ میں آجاتا ہے اور کبھی نہیں آتا۔مجھے یاد ہے آپ لکھتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ جب ماسٹر صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس یہ شکایت کی تو میں ڈر کے مارے چھپ گیا کہ معلوم نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کس قدر ناراض ہوں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب یہ بات سنی تو آپ نے فرمایا کہ آپ کی بڑی ماسٹر صاحب کو کہا کہ آپ کی بڑی مہربانی ہے جو آپ بچے کا خیال رکھتے ہیں اور مجھے آپ کی بات سن کر بڑی خوشی ہوئی کہ یہ کبھی کبھی مدر سے چلا جاتا ہے۔یہ تو بڑی اچھی بات ہے کہ کبھی کبھی چلا جاتا ہے ورنہ میرے نزدیک تو اس کی صحت اس قابل نہیں کہ پڑھائی کر سکے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہنس کر فرمایا کہ اس سے ہم نے کوئی آٹے دال کی دکان تھوڑی کھلوانی ہے کہ اسے حساب سکھایا جائے۔حساب اسے آئے یا نہ آئے کوئی بات نہیں۔پھر فرمایا کہ آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے صحابہ نے کون سا حساب سیکھا تھا۔اگر یہ مدرسے میں چلا جائے تو اچھی بات ہے ورنہ اسے مجبور نہیں کرنا چاہیے۔یہ سن کر ماسٹر صاحب واپس آگئے۔میں نے اس نرمی سے اور بھی فائدہ اٹھانا شروع کر دیا اور پھر مدرسے جانا ہی چھوڑ دیا۔کبھی مہینے میں ایک آدھ دفعہ چلا جاتا تو اور بات تھی۔غرض اس رنگ میں میری تعلیم ہوئی اور میں در حقیقت مجبور بھی تھا کیونکہ بچپن میں علاوہ آنکھوں کی تکلیف کے مجھے جگر کی خرابی کا بھی مرض تھا۔چھ چھ مہینے مونگ کی دال کا پانی یا ساگ کا پانی مجھے دیا جاتا رہا، جگر کے علاج کے لیے۔پھر اس کے ساتھ تلی بھی بڑھ گئی تھی۔ریڈ آئیوڈائڈ آف مرکری (Red Iodide of Mercury) کی تلی کے مقام پر مالش کی جاتی تھی۔اسی طرح گلے پر بھی اس کی مالش کی جاتی کیونکہ مجھے خنازیر کی بھی شکایت تھی۔ٹانسلز کی شکایت تھی غرض آنکھوں میں ٹکرے، جگر کی خرابی، عظم طبال کی شکایت یعنی تلی کی بیماری اور پھر اس کے ساتھ بخار کا شروع ہو جانا جو چھ چھ مہینے تک نہ اتر تا اور میری پڑھائی کے متعلق بزرگوں کا فیصلہ کر دینا کہ یہ جتنا پڑھنا چاہے پڑھ لے اس پر زیادہ زور نہ دیا جائے ان حالات سے ہر شخص اندازہ لگا سکتا ہے کہ میری تعلیمی قابلیت کا کیا حال ہو گا۔فرماتے ہیں ایک دفعہ ہمارے نانا جان حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میرا اردو کا امتحان لیا۔حضرت مصلح موعوددؓ لکھتے ہیں کہ میں اب بھی بہت بدخط ہوں۔یعنی میر اخط اچھا نہیں ہے۔میری تحریر لکھائی اچھی نہیں مگر اس زمانہ میں تو میرا اتنا بد خط تھا کہ پڑھا ہی نہیں جاتا تھا کہ میں نے کیا لکھا ہے۔انہوں نے بڑی کوشش کی کہ پتہ لگائیں کہ میں نے کیا لکھا ہے مگر انہیں کچھ پتہ نہ چلا۔آپ لکھتے ہیں میرے بچوں میں سے اکثر کے خط مجھ سے اچھے ہیں۔میرے خط کا نمونہ صرف میری لڑکی، اپنی ایک لڑکی کی مثال دیتے ہیں امتۃ الرشید کی تحریر میں