خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 99 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 99

خطبات مسرور جلد 17 99 99 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 فروری 2019 جہاں تک آپ کی تعلیم کا تعلق ہے۔ناظرہ قرآن کریم پڑھنے کے بعد آپ کو باقاعدہ سکول میں داخل ہو کر جو رائج تعلیم تھی، مروجہ دنیاوی تعلیم پانے کا موقع ملا اور اس کی بھی یہ حالت تھی کہ گھر پر بھی اساتذہ سے اردو اور انگریزی کی امدادی تعلیم حاصل کی۔اس بارے میں حضرت پیر منظور محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کچھ عرصہ آپ کو اردو پڑھاتے رہے۔چنانچہ جو استاد مقرر ہوئے گھر میں تعلیم دینے کے لیے ان میں پیر منظور محمد صاحب تھے جنہوں نے آپ کو کچھ عرصہ اردو پڑھائی۔بعد ازاں کچھ عرصہ مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو انگریزی پڑھائی لیکن یہ سب تعلیم کس ماحول اور کس اہتمام کے ساتھ ہوئی حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے جب فضل عمر کی سوانح لکھی تو آپ لکھتے ہیں یہ بھی ایک دلچسپ داستان ہے جو خود حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب ہی کے الفاظ میں سننے سے تعلق رکھتی ہے۔تعلیم کا جیسا کہ میں نے کہا کیا حال تھا؟ وہ ہم حضرت مصلح موعود کی زبانی سنتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ میری تعلیم کے سلسلہ میں مجھ پر سب سے زیادہ احسان حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے۔آپ چونکہ طبیب بھی تھے اور اس بات کو جانتے تھے کہ میری صحت اس قابل نہیں کہ میں کتاب کی طرف زیادہ دیر تک دیکھ سکوں۔اس لیے آپ کا طریق یہ تھا کہ آپ مجھے اپنے پاس بٹھا لیتے اور فرماتے میاں میں پڑھتا جاتا ہوں تم سنتے جاؤ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ بچپن میں میری آنکھوں میں سخت نگرے پڑ گئے تھے آنکھوں کی بیماری تھی اور متواتر چار سال تک میری آنکھیں دکھتی رہیں اور ایسی شدید تکلیف مگروں کی وجہ سے پید اہو گئی کہ ڈاکٹروں نے کہا کہ اس کی بینائی ضائع ہو جائے گی۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میری صحت کے لیے خاص طور دعائیں کرنی شروع کر دیں اور ساتھ ہی آپ نے روزے رکھنے شروع کر دیے۔مجھے اس وقت یاد نہیں آپ فرماتے ہیں مجھے اس وقت یاد نہیں کہ آپ نے کتنے روزے رکھے بہر حال تین یا سات روزے آپ نے رکھے۔جب آخری روزے کی آپ افطاری کرنے لگے اور روزہ کھولنے کے لیے منہ میں کوئی چیز ڈالی تو یکدم میں نے آنکھیں کھول دیں اور میں نے آواز دی کہ مجھے نظر آنے لگ گیا ہے۔لیکن اس بیماری کی شدت اور اس کے متواتر حملوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ میری ایک آنکھ کی بینائی ماری گئی۔چنانچہ میری بائیں آنکھ میں بینائی نہیں ہے۔میں رستہ تو دیکھ سکتا ہوں مگر کتاب نہیں پڑھ سکتا۔دو چار فٹ پر اگر کوئی ایسا آدمی بیٹھا ہو جو میرا پہچانا ہوا ہو تو میں اس کو دیکھ کر پہچان سکتا ہوں۔لیکن اگر کوئی بے پہچانا ہو تو مجھے اس کی شکل نظر نہیں آسکتی۔صرف دائیں آنکھ کام کرتی ہے مگر اس میں بھی گرے پڑ گئے اور وہ ایسے شدید ہو گئے کہ کئی کئی راتیں میں جاگ کر کاٹتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے میرے استادوں سے کہہ دیا کہ پڑھائی اس کی مرضی پر ہو گی۔یہ جتنا پڑھنا چاہے پڑھے اور اگر نہ پڑھے تو اس پر زور نہ دیا جائے کیونکہ اس کی صحت اس قابل نہیں کہ یہ پڑھائی کا بوجھ برداشت کر سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بارہا مجھے صرف یہی فرماتے کہ تم قرآن کا ترجمہ اور بخاری حضرت مولوی صاحب سے پڑھ لو یعنی حضرت مولانا نورالدین خلیفتہ المسیح الاول سے پڑھ لو اس کے علاوہ آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ کچھ طب بھی پڑھ لو کیونکہ یہ ہمارا خاندانی فن ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ ماسٹر فقیر اللہ صاحب۔۔۔ہمارے حساب کے استاد تھے سکول میں اور لڑکوں