خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 98 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 98

خطبات مسرور جلد 17 98 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 فروری 2019 باوصف ان سب عقلی و نقلی جرح و قدح کے یہ بھی منقول ہے کہ ایسا مردہ صرف چند منٹ کے لیے زندہ رہتا تھا۔اور پھر دوبارہ اپنے عزیزوں کو دوہرے ماتم میں ڈال کر اس جہان سے رخصت ہو جاتا جس کے دنیا میں آنے سے نہ دنیا کو کچھ فائدہ پہنچتا تھانہ خود اس کو آرام ملتا تھا اور نہ اس کے عزیزوں کو کوئی سچی خوشی حاصل ہوتی تھی، سو اگر حضرت مسیح علیہ السلام کی دعا سے بھی کوئی روح دنیا میں آئی تو در حقیقت اس کا آنا نہ آنا برابر تھا۔اور بفرض محال اگر ایسی روح کئی سال جسم میں باقی بھی رہتی ، تب بھی ایک ناقص روح کسی رذیل یا دنیا پرست کی جو احد من الناس ہے دنیا کو کیا فائدہ پہنچاسکتی تھی ؟ مگر اس جگہ " آپ پیشگوئی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر پہلے ان انبیاء کی روحیں واپس آتی رہیں۔کسی مردے کو زندہ کیا تو ایک عارضی تھیں اور وہ لوگ ایک عام آدمی ہوتے تھے لیکن آپ فرماتے ہیں کہ۔۔اس جگہ بفضلہ تعالیٰ و احسانه و برکت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، خداوند کریم نے اس عاجز کی دعا کو قبول کر کے ایسی بابرکت روح بھیجنے کا وعدہ فرمایا جس کی ظاہری و باطنی برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی۔سو اگر چہ بظاہر یہ نشان احیائے موتی کے برابر معلوم ہوتا ہے۔مگر غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ یہ نشان مردوں کے زندہ کرنے سے صد ہا درجہ بہتر ہے۔مردہ کی بھی روح ہی دعا سے واپس آتی ہے اور اس جگہ بھی دعا سے ایک روح ہی منگائی گئی ہے۔" آپ نے فرمایا بچہ کے لیے جو یہ دعا کی گئی تھی کہ دعا سے ہی ایک روح منگائی گئی ہے۔مگر ان روحوں اور اس روح میں لاکھوں کو سوں کا فرق ہے۔جو لوگ مسلمانوں میں چھپے ہوئے مرتد ہیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کا ظہور دیکھ کر خوش نہیں ہوتے بلکہ ان کو بڑا رنج پہنچتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟" ( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 114 تا 115، اشتہار واجب الاظہار 22 مارچ 1886ء بحوالہ سوانح فضل عمر جلد 1 صفحہ 53-54) تبلیغ رسالت میں آپ نے یہ بیان فرمایا۔پس جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ کوئی معمولی روح نہیں مانگی گئی تھی بلکہ ایک نشان مانگا گیا تھا جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی خصوصیات کے حامل بیٹے کی پیدائش کی خبر دی۔ایک ایسے فرزند جلیل کی خبر دی گئی جو " عمر پانے والا ہو گا۔نہایت ذکی اور فہیم ہو گا۔صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہو گا، قو میں اس سے برکت پائیں گی۔وہ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔کلام اللہ یعنی قرآن کریم کا نہایت گہر ا فہم اس کو عطا ہو گا اور اس خداداد فہم سے کام لے کر وہ قرآن کی ایسی عظیم الشان خدمت کی توفیق پائے گا کہ کلام اللہ کا مرتبہ دنیا پر ظاہر ہو۔وہ اسیر وں کی رستگاری کا موجب ہو گا۔وہ عالم کباب ہو گا یعنی اس کے دورِ حیات میں ایسی عالمگیر تباہیاں آئیں گی جو سب دنیا کو بھون کر رکھ دیں گی۔وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔" اب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں ایسی عالمگیر تباہیاں جنگوں کی صورت میں بھی آئیں۔دو جنگیں عالمی جنگیں ہوئیں اور آفات کی صورت میں بھی آئیں۔پھر شہرت پانے کا جہاں تک تعلق ہے آپ نے اپنی زندگی میں نئے مشن اور تبلیغی کام کر کے دنیا کے مختلف ممالک میں اسلام کا پیغام پہنچا کر زمین کے کناروں تک شہرت بھی پائی بلکہ اس پیشگوئی کے حوالے سے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔اب میں اس وقت حضرت مصلح موعود کی سوانح اور سیرت کے حوالے سے جیسا کہ میں نے کہا کچھ باتیں پیش کروں گا۔(سوانح فضل عمر جلد 1 صفحہ 53 54)