خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 97
خطبات مسرور جلد 17 8 97 97 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 فروری 2019 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 22 فروری 2019ء بمطابق 22, تبلیغ 1398 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج کل جماعت میں یوم مصلح موعود کے حوالے سے جلسے ہو رہے ہیں یعنی اس پیشگوئی کے حوالے سے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک موعود بیٹے کی خبر دی تھی۔جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اس بیٹے کو وہ خاص خصوصیات کا حامل بنائے گا۔وہ دین کا خادم ہو گا۔لمبی عمر پائے گا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو آگے چلائے گا۔یہ پیشگوئی 20/ فروری 1886ء کی ہے۔یہ پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تائیدات اور آپ کی صداقت کا ایک بہت بڑا نشان ہے۔چنانچہ جو عرصہ اس بچے کی پیدائش کا دیا گیا تھا۔اس کے مطابق 12/ جنوری 1889ء (eighteen eighty-nine) کو وہ لڑکا پیدا ہوا جس کا نام مرزا بشیر الدین محمود احمد رکھا گیا جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفة المسیح الاول کے وصال کے بعد خلافت کی ردا پہنائی۔اس وقت میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی کے کچھ واقعات اور آپ کا اس پیشگوئی کا مصداق ہونے کے بارے میں کچھ بیان کروں گا۔لیکن اس سے پہلے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں اس پیشگوئی کی اہمیت اور سچائی کے بارے میں جو آپ نے ارشاد فرمایا ہے پیش کرتا ہوں۔یہ پیشگوئی ایک بیٹے کی پیدائش کی نہیں تھی بلکہ ایک ایسے عظیم الشان فرزند کی ولادت کی پیشگوئی تھی جس کے آنے سے ایک روحانی انقلاب کی داغ بیل ڈالی جانے والی تھی۔اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے معترضین کو جو جواب دیا ہے جیسا کہ میں نے کہا وہ پیش کرتا ہوں۔وہ آپ کے الفاظ میں ہی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ " اس جگہ آنکھیں کھول کر دیکھ لینا چاہیے کہ یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں بلکہ ایک عظیم الشان نشان آسمانی ہے جس کو خدائے کریم جل شانہ نے ہمارے نبی کریم رؤف و رحیم نے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت و عظمت ظاہر کرنے کے لیے ظاہر فرمایا ہے اور در حقیقت یہ نشان ایک مردہ کے زندہ کرنے سے صد با درجہ اعلیٰ و اولی و اکمل و افضل و اتم ہے کیونکہ مردہ کے زندہ کرنے کی حقیقت یہی ہے کہ جنابِ الہی میں دُعا کر کے ایک روح واپس منگوایا جاوے۔اور ایسا مردہ زندہ کرنا حضرت مسیح اور بعض دیگر انبیاء علیہم السلام کی نسبت بائبل میں لکھا گیا ہے جس کے ثبوت میں معترضین کو بہت سی کلام ہے۔اور پھر