خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 92
خطبات مسرور جلد 17 92 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 فروری 2019 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرہ قضاء کے لئے ذی القعدہ 7 ہجری میں روانہ ہوئے تو آپ نے ہتھیار آگے بھیج دیئے تھے اور ان پر حضرت بشیر بن سعد کو نگر ان مقرر فرمایا۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 403 بشير بن سعد مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) عمرہ قضاء کی تفصیل یہ ہے کہ حدیبیہ کے صلح نامہ کی وجہ سے وہاں عمرہ تو نہیں ہو سکا تھا اور اس میں ایک شق یہ بھی تھی کہ آئندہ سال آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آکر عمرہ ادا کریں گے اور تین دن مکہ میں ٹھہریں گے۔(صحيح البخارى كتاب المغازى باب عمرة القضاء حديث 4252) اس دفعہ کے مطابق، اس شق کے مطابق ماہ ذوالقعدہ 7 ہجری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ ادا کرنے کے لئے مکہ روانہ ہونے کا عزم فرمایا اور اعلان کر دیا کہ جو لوگ گذشتہ سال حدیبیہ میں شریک تھے وہ سب میرے ساتھ چلیں گے۔چنانچہ بجز ان لوگوں کے جو جنگ خیبر میں شہید یا وفات پاچکے تھے سب نے یہ سعادت حاصل کی اور کچھ کو ہتھیاروں کے ساتھ آگے بھیج دیا۔اب یہ ہے کہ عمرہ پہ جانے کے لئے ہتھیاروں کی کیاضرورت تھی ؟ اس بارے میں جو تفصیل ملتی ہے وہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو چونکہ کفار مکہ پر بھروسہ نہیں تھا کہ وہ اپنے عہد کو پورا کریں گے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کی پوری تیاری کے ساتھ ، اپنے جو ہتھیار لے جا سکتے تھے وہ لے کر گئے اور بوقت روانگی ایک صحابی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابورھم غفاری کو مدینہ پر حاکم بنادیا اور دو ہزار مسلمانوں کے ساتھ جن میں ایک سو گھوڑوں پر سوار تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔ساٹھ اونٹ قربانی کے لئے ساتھ تھے۔جب کفار مکہ کو خبر ملی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہتھیاروں اور سامان جنگ کے ساتھ مکہ آرہے ہیں تو وہ بہت گھبر ائے اور انہوں نے چند آدمیوں کو صور تحال کی تحقیقات کے لئے مَر الظَّهْرَان تک بھیجا۔محمد بن مسلمہ جو اسپ سواروں کے افسر تھے قریش کے قاصدوں نے ان سے ملاقات کی۔انہوں نے اطمینان دلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلح نامہ کی شرط کے مطابق بغیر ہتھیار کے مکہ میں داخل ہوں گے۔یہ سن کر کفار جو تھے مطمئن ہو گئے۔چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب مقام یا حج میں پہنچے جو مکہ سے آٹھ میل دور ہے تو تمام ہتھیاروں کو اس جگہ رکھ دیا اور بشیر بن سعد کی ماتحتی میں چند صحابہ کرام کو ان ہتھیاروں کی حفاظت کے لئے متعین فرما دیا اور اپنے ساتھ ایک تلوار کے سوا کوئی ہتھیار نہیں رکھا اور صحابہ کرائم کے مجمع کے ساتھ لبیک پڑھتے ہوئے حرم کی طرف بڑھے۔کہا جاتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاص حرم میں ، کعبہ میں داخل ہوئے تو قریش کے کچھ کفار جو تھے مارے جلن کے اس منظر کو دیکھ نہ سکے اور پہاڑوں پر چلے گئے کہ ہم نہیں دیکھ سکتے مسلمان اس طرح طواف کر رہے ہوں۔مگر کچھ کفار اپنے دارالندوہ جو ان کے مشورے کا ایک کمیٹی گھر تھا اس میں جمع ہو گئے ، وہاں کھڑے ہو کے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے توحید ورسالت کے نشے سے مست یہ جو مسلمان لوگ تھے وہ ان کے طواف کا نظارہ کرنے لگے اور آپس میں کہنے لگے کہ یہ مسلمان بھلا کیا طواف کریں گے۔ان کو تو بھوک اور مدینہ کے بخار نے کچل کر رکھ دیا ہے۔بہت کمزور قسم کے یہ لوگ ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد حرام میں پہنچ کر اضطباع کر لیا یعنی چادر کو اس طرح اوڑھ لیا کہ آپ کا داہناشانہ اور بازو کھل گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خدا اس پر اپنی رحمت نازل فرمائے جو ان کفار کے سامنے اپنی قوت کا اظہار کرے۔