خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 93
خطبات مسرور جلد 17 93 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 فروری 2019 یعنی کفار تو یہ باتیں کر رہے ہیں انہوں نے جو کہا وہ باتیں آپ تک پہنچیں لیکن تم اپنی قوت کا اظہار کرو۔اس طرح قوت کا اظہار کہ تمہارے یہ کمزور جسم نہ نظر آئیں بلکہ مضبوط جسم نظر آئیں یا چوڑے شانے نظر آئیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ شروع کے تین پھیروں میں شانوں کو ہلا ہلا کر خوب اکڑتے ہوئے چل کر طواف کیا۔اس کو عربی زبان میں رمل کہتے ہیں۔چنانچہ یہ سنت آج تک باقی ہے اور قیامت تک باقی رہے گی کہ ہر طواف کعبہ کرنے والا شروع طواف کے تین پھیروں میں رمل کرتا ہے۔تو یہ ہے وجہ اس طرح پہلے چلنے کی۔(شرح زرقاني على مواهب اللدنية جلد 3 صفحه 314 تا 317 ، 321 تا 323 باب عمرة القضاء مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) (سیرت ابن هشام صفحه 529 باب عمرة القضاء۔۔۔الخ مطبوعه دار ابن حزم بيروت 2009ء)(لغات الحدیث جلد 2 صفحه 163 مطبوعه نعمانی کتب خانه لاهور 2005ء) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے ؟ اس کے بارے میں جو بخاری کی حدیث ہے، راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے تھے تو انہوں نے کہا کہ چار۔عمرہ حدیبیہ جو ذوالقعدہ میں کیا، گو یہ عمرہ تو نہیں ہو سکا تھا لیکن اس کو عمرہ اس لیے گنا جاتا ہے کہ وہاں قربانی وغیرہ کر لی تھی۔سر مونڈھ لئے تھے اور اس لحاظ سے اس کو بعض لوگوں نے شمار کر لیا۔پھر کہتے ہیں دوسرا جب مشرکوں نے آپ کو روکا تھا صلح حدیبیہ میں تو یہ ایک عمرہ ہو گیا۔وہ عمرہ دوسرے سال ذی القعدہ میں ہو ا یعنی جو دوسرا عمرہ تھا۔پہلے سال تو حدیبیہ کا اصل میں نہیں ہو سکا۔سوائے قربانی وغیرہ کے اور دوسر ا عمرہ ذی القعدہ میں دوسرے سال ہو ا جب آپ نے ان سے صلح کی اور پھر آگے لکھا ہے کہ عمرہ جعرانہ جب آپ نے مال غنیمت تقسیم کیا۔یہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ یہ جنگ حنین کی غنیمت تھی، اس وقت بھی عمرہ کیا تو میں نے کہا آپ نے کتنے حج کئے ؟ راوی نے پوچھا۔انہوں نے کہا حج ایک ہی کیا تھا اور حج کے موقع پر بھی عمرہ ادا کیا تھا اس طرح بعض لوگ چار عمرے گنتے ہیں بعض دو گنتے ہیں۔(صحيح البخارى كتاب العمرة باب كم اعتمر النبى اللہ حدیث 1778-1779) حضرت بشیر بن سعد انصار کے پہلے شخص تھے جنہوں نے حضرت ابو بکر صدیق کے ہاتھ پر سقیفہ بنو ساعدہ کے دن بیعت کی تھی۔(استیعاب جلد 1 صفحه 172-173 بشير بن سعد مطبوعه دار الجيل بيروت 1992ء) سقیفہ بنو ساعدہ کیا ہے ؟ اس کے بارے میں لکھا ہے کہ مدینہ میں یہ بنو خزرج کے بیٹھنے کی جگہ ہوتی تھی۔(معجم البلدان جلد 3 صفحه 259 دار الكتب العلمية بيروت) بہر حال یہ کمرہ تھا یا اس زمانے کے لحاظ سے شیڈ (shade) ڈالا ہوا تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یہاں پر سقیفہ بنی ساعدہ میں بنو خزرج کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانشینی کے حوالے سے ایک اجلاس جاری تھا۔اس اجلاس کی خبر حضرت عمرؓ کو دی گئی اور ساتھ ہی یہ کہا گیا کہ ہو سکتا ہے کہ منافقین اور انصار کے باعث کوئی فتنہ نہ پھیل جائے۔اس پر حضرت عمر فاروق حضرت ابو بکر صدیق کو لے کر سقیفہ بنی ساعدہ چلے گئے۔یہاں جاکر معلوم ہوا کہ بنو خزرج جانشینی کے دعویدار ہیں اور بنو اوس اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔آپس میں یہ مدینہ