خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 91 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 91

خطبات مسرور جلد 17 91 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 فروری 2019 تھے کہ اس کی نوکری ہٹ گئی یا آمد کم ہو گئی اور چھوٹے بچوں کی تعلیم رک گئی۔اب یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ اس نے بڑے لڑکے سے امتیاز روا رکھا ہے بلکہ یہ تو اتفاقی بات ہے۔اس کی تو کوشش تھی کہ میں پہلے بڑے لڑکے کو پڑھاتا ہوں پھر دوسروں کو باری باری ایم۔اے تک پڑھاؤں گا یا جہاں تک پڑھ سکتے ہیں پڑھاؤں گا یعنی وقتی ضروریات کے ماتحت اس نے ذمہ داری کو تقسیم کیا۔( نیت نیک تھی) اس وقت یہ کام کر لیتا ہوں جب دوسرے کا وقت آئے گا تو وہ کر لوں گا مگر پھر حالات بدل گئے اور وہ اپنی خواہشات پوری نہ کر سکا۔لیکن اس کے بر عکس اگر ایک والد اپنے بڑے لڑکے کو جو عیال دار ہو گیا ہو دو ہزار روپیہ دے کر الگ کر دے کہ تم تجارت کرو مگر جب دوسرے لڑکے بھی صاحب اولاد ہو جائیں تو انہیں کچھ نہ دے تو یہ ناجائز ہے اور امتیازی سلوک ہو گا۔بہر حال ہبہ کے بارے میں یا خاص جائیداد کے بارے میں یہ فقہی مسئلہ ہے جسے ہر ایک کو اپنے سامنے جائیداد کی تقسیم کے وقت یا ہبہ کرتے وقت، وصیت کرتے وقت رکھنا چاہیے۔(ماخوذ از فرمودات مصلح موعودؓ از سید شمس الحق صاحب مربی سلسلہ صفحہ 316-317) غزوہ خندق کے موقع پر یہ روایت ہے کہ حضرت بشیر بن سعد( جن صحابی کا ذکر ہو رہا ہے ان) کی بیٹی بیان کرتی ہیں کہ میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے میرے کپڑوں میں تھوڑی سی کھجوریں دے کر کہا کہ بیٹی یہ اپنے باپ اور ماموں کو دے آؤ اور کہنا کہ یہ تمہارا صبح کا کھانا ہے۔آپ کی بیٹی کہتی ہیں میں ان کھجوروں کو لے کر چلی اور اپنے والد اور ماموں کو ڈھونڈھتی ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزری تور سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے لڑکی !یہ تیرے پاس کیا چیز ہے؟ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! یہ کھجوریں ہیں۔میری ماں نے میرے والد بشیر بن سعد اور میرے ماموں عبد اللہ بن رواحہ کے لئے بھیجی ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لاؤ مجھے دے دو۔میں نے وہ کھجور میں آپ کے دونوں ہاتھوں میں رکھ دیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کھجوروں کو ایک کپڑے پر ڈال دیا اور پھر ان کو ایک اور کپڑے سے ڈھانپ دیا اور ایک شخص سے فرمایا کہ لوگوں کو کھانے کے لئے بلالو۔چنانچہ تمام خندق کے کھودنے والے جمع ہو گئے اور ان کھجوروں کو کھانے لگے اور وہ کھجور میں زیادہ ہوتی گئیں یہاں تک کہ جب اہل خندق کھا چکے تو کھجوریں کپڑے کے کنارے پر سے نیچے گر رہی تھیں۔ایسی برکت ان میں پڑی۔(سیرت ابن هشام صفحه 454-455 باب ما ظهر لرسول الله الا الله من الآيات في حفر الخندق مطبوعه دار ابن حزم بيروت 2009ء) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ خلافت میں 12 ہجری میں حضرت بشیر حضرت خالد بن ولید کے ساتھ معرکہ عَيْنُ الشمر میں شریک ہوئے اور آپ کو شہادت نصیب ہوئی۔(اصابه جلد 1صفحه 442 بشير بن سعد مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1995ء) عَيْنُ الشمر کوفہ کے قریب ایک جگہ ہے۔مسلمانوں نے 12 ہجری میں حضرت ابو بکر کے عہد خلافت میں اس علاقے کو فتح کیا تھا۔(معجم البلدان جلد 4 صفحه 199 مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت)