خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 88 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 88

خطبات مسرور جلد 17 88 خطبہ جمعہ فرموده مورمحہ 15 فروری 2019 اگر تم یہ کہو کہ حیا نے حارثہ کو ٹھیک کر دیا ہے تو یہ بیچ ہو گا۔(المنتقى من كتاب مكارم الاخلاق للخرائطي صفحه 68 باب فضيلة الحياء و جسیم خطرہ حدیث 127 مطبوعه دار الفكر دمشق 1988ء) حضرت حارثہ بن نُعمان کی وفات حضرت امیر معاویہ کے دور میں ہوئی تھی۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 372 حارثه بن النعمان مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) اگلے صحابی حضرت بشیر بن سعد ہیں۔ان کی کنیت ابو نعمان تھی۔سعد بن ثعلبہ ان کے والد تھے۔حضرت سماك بن سعد کے بھائی تھے۔قبیلہ خزرج سے ان کا تعلق تھا۔(استیعاب جلد 1 صفحه 172 بشير بن سعد مطبوعه دار الجيل بيروت 1992ء) ان کی والدہ کا نام انیسہ بنتِ خَلِیفَہ تھا اور آپ کی زوجہ کا نام عمرة بنتِ رَوَاحَہ تھا۔حضرت بشیر بن سعد زمانہ جاہلیت میں لکھنا جانتے تھے۔یہ وہ زمانہ تھا جب عرب میں بہت کم لوگ لکھنا جانتے تھے۔آپ بیعت عقبہ ثانیہ میں ستر انصار کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔آپ غزوہ بدر اور احد اور غزوہ خندق اور باقی کے تمام غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان 7 ہجری میں حضرت بشیر بن سعد کی نگرانی میں تیس آدمیوں پر مشتمل ایک سریہ فدک میں بینی مرہ کی جانب بھیجا تھا۔ان لوگوں میں شدید لڑائی بھی ہوئی تھی۔حضرت بشیر نہایت جوانمردی سے لڑے اور لڑتے ہوئے آپ کے ٹخنے پر تلوار لگی اور سمجھا گیا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔دشمنوں نے ان کو چھوڑ دیا کہ شاید بیہوش ہو کے گرے ہوں گے یا شہید ہو گئے ہیں۔چھوڑ کے آگئے۔لیکن جب شام کو آپ کو ہوش آئی تو آپ وہاں سے فدک آگئے۔فدک میں آپ نے ایک یہودی کے گھر چند روز قیام کیا اور پھر مدینہ واپس تشریف لے آئے۔اسی طرح شوال 7 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو تین سو آدمیوں کے ہمراہ یمن اور جبار کی طرف روانہ فرمایا جو کہ فدک اور وادی القُری کے درمیان واقع ہے۔یہاں غطفان کے کچھ لوگ عُيْنَه بن حِصْنِ الْفَزَارِی کے ساتھ اکٹھے ہو گئے تھے۔یہ اسلام کے خلاف منصوبہ بندیاں کرتے تھے۔حضرت بشیر نے ان سے مقابلہ کر کے انہیں منتشر کر دیا۔مسلمانوں نے بعض کو قتل بھی کیا اور بعض کو قیدی بنایا اور مال غنیمت کے ساتھ لوٹے۔الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 402-403 بشير بن سعد مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) یہ جنگ اور نقصان پہنچانے کے لئے جمع ہوا کرتے تھے۔اس لئے ان کے خلاف مسلمانوں کے تحفظ کے لئے یہ کارروائی کی جاتی تھی۔مال لوٹنا یا قتل کرنا مقصد نہیں تھا۔جیسا کہ گذشتہ خطبہ میں بھی میں نے بیان کیا تھا کہ ایک غلط حملے پر جس کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے بڑی سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا کہ کیوں تم نے جنگ لڑی؟ بشير بن سعد کے بارے میں ایک روایت ہے جو ان کے بیٹے حضرت نُعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں۔نعمان بن بشیر ان کا نم تھا کہ ان کے والد انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور عرض کی کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو اپنا ایک غلام دیا ہے اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اپنے سارے بیٹوں کو اسی رض