خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 89
خطبات مسرور جلد 17 89 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 فروری 2019 طرح دیا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اس سے واپس لے لو۔(صحيح البخارى كتاب الهبة باب الهبة للولد حديث 2586) ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر کہتے ہیں کہ میرے والد نے اپنا کچھ مال مجھے عطا کیا۔(وہ بھی بخاری کی روایت ہے اور یہ بھی۔) اس پر میری والدہ عمرہ بنتِ رَوَاحَہ نے کہا میں راضی نہ ہوں گی جب تک تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ نہ ٹھہراؤ۔میرے والد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تاکہ وہ آپ کو پر گواہ بنائیں جو مجھے دیا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اپنے سب بچوں کے ساتھ ایسا ہی کیا ہے۔ہر ایک کو اتنا ہی مال دیا ہے یا جو بھی وہ چیز تھی ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔آپ نے فرمایا کہ اللہ کا تقوی اختیار کرو اور اپنی اولاد سے عدل کا سلوک کرو۔میرے والد واپس آئے اور وہ عطیہ واپس لے لیا۔میرے عطیہ پر (صحیح البخارى كتاب الهبة باب الاشهاد في الهبة حديث 2587) صحیح مسلم کی روایت میں یہ ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے گواہ نہ بناؤ کیونکہ میں ظلم پر گواہی نہیں دیتا۔(صحیح مسلم کتاب الهبات باب كراهية تفضيل بعض اولاد في الهبة حديث 4182) اس مسئلے کی یا اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے، تشریح کرتے ہوئے یا اس طرح کے ہبہ کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے تفصیل سے بڑی عمدہ وضاحت فرمائی ہے جو بڑی اچھی رہنمائی ہے۔آپؐ فرماتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اہم اشیاء کے متعلق ہے۔چھوٹی موٹی چیزوں کے متعلق نہیں ہے۔مثلاً اگر ہم کیلا کھا رہے ہوں تو ہو سکتا ہے کہ بچہ جو سامنے موجود ہو اسے ہم دے دیں اور دوسرا محروم رہے۔حدیثوں میں گھوڑے کی مثال آتی ہے یا مال کی مثال آتی ہے یا غلام کی ، کوئی ایسی قیمتی چیز ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا کہ یا تو وہ اپنے سب بیٹوں کو ایک گھوڑادے یا کسی کو بھی نہ دے مگر اس کی وجہ یہ تھی کہ عربوں میں گھوڑے کی قیمت بہت ہوتی تھی (یا غلام ہے تو غلام بھی ایک جائیداد سمجھا جاتا تھا یا کسی بھی قسم کا مال ، جو قیمتی چیز ہے۔تو اس لئے اس کے لئے منع کیا گیا ہے۔اور گھوڑا بھی عربوں میں بڑی قیمتی چیز تھی۔پس یہ حکم ان چیزوں کے متعلق ہے جس میں ایک دوسرے سے بغض پیدا ہونے کا امکان ہو۔ایک بچے کو دے دیا دوسرے کو نہ دیا تو ایک دوسرے کے خلاف دل میں آپس میں رنجشیں پیدا ہو سکتی ہیں۔آپ لکھتے ہیں کہ معمولی چیزوں کے متعلق نہیں ہے مثلاً فرض کرو کہ بازار گئے ہیں ایک بچہ ہمارے ساتھ چلا جاتا ہے اور ہم اسے دوکان سے کوٹ کا کپڑا خرید دیتے ہیں تو یہ بالکل جائز ہو گا اور یہ نہیں کہا جائے گا کہ جب تک ساروں کے لیے ہم کوٹ خرید کر نہ لائیں ایک بچے کو بھی کوٹ کا کپڑا خرید کر نہیں دیا جا سکتا۔آپ لکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں بعض دفعہ کوئی تحفہ آتا ہے تو ایک بچہ جو ہمارے سامنے ہوتا ہے وہ کہتا ہے یہ مجھے دے دیا جائے اور ہم وہ تحفہ اسے دے دیتے ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں ہو تا کہ ہم دوسرے کو محروم رکھتے ہیں بلکہ سمجھتے ہیں کہ جب کوئی اور تحفہ آیا تو پھر دوسرے کی باری آجائے گی۔پس یہ حکم چھوٹی چھوٹی چیزوں کے متعلق نہیں ہے بلکہ بڑی بڑی چیزوں کے متعلق ہے جن میں امتیازی سلوک کرنے سے آپس میں بغض اور عناد پیدا ہونے کا امکان ہو سکتا ہے۔آپؐ فرماتے ہیں کہ میرا تو طریق یہ ہے کہ جب میرا کوئی بچہ جوان ہو تا ہے تو میں اسے