خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 87 of 827

خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 87

خطبات مسرور جلد 17 87 52 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 فروری 2019 چاہتے ہیں۔یہ میرے گھر ہیں اور یہ بنو نجار کے گھروں میں آپ سے سب سے زیادہ قریب ہیں اور میں اور میرا مال اللہ اور اس کے رسول ہی کے لیے ہیں۔یارسول اللہ ! آپ مجھ سے جو مال چاہیں لے لیں وہ مجھے اس مال سے بہت زیادہ پیارا ہو گا جسے آپ چھوڑ دیں گے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا تم نے سچ کہا۔خد اتعالیٰ تم پر برکت نازل فرمائے۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ کو حضرت حارثہ والے گھر میں بلالیا۔الطبقات الكبرى جلد 8 صفحه 18-19 فاطمة بنت رسول لله الله مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) اس کی کچھ تفصیل سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی بیان فرمائی ہے اس طرح کہ آپ لکھتے ہیں کہ حضرت علی اب تک غالباً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد کے کسی حجرے وغیرہ میں رہتے تھے مگر شادی کے بعد یہ ضروری تھا کہ کوئی الگ مکان ہو جس میں خاوند بیوی رہ سکیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے ارشاد فرمایا کہ اب تم کوئی مکان تلاش کرو جس میں تم دونوں رہ سکو۔حضرت علیؓ نے عارضی طور پر ایک مکان کا انتظام کیا اور اس میں حضرت فاطمہ کا رخصتانہ ہو گیا۔اسی دن رخصتانہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مکان پر تشریف لے گئے اور تھوڑا سا پانی منگا کر اس پر دعا کی۔پھر وہ پانی حضرت فاطمہ اور حضرت علی ہر دو پر یہ الفاظ فرماتے ہوئے چھڑکا کہ اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيْهِمَا وَ بَارِكْ عَلَيْهِمَا وَ بَارِكْ لَهُمَا نَسْلَهُمَا یعنی اے میرے اللہ ! تو ان دونوں کے باہمی تعلقات میں برکت دے اور ان کے ان تعلقات میں برکت دے جو دوسرے لوگوں کے ساتھ قائم ہوں اور ان کی نسل میں برکت دے۔یعنی ذاتی تعلقات بھی اور رشتہ داروں کے تعلقات بھی، معاشرے کے تعلقات بھی۔سب کی برکت کی دعا کی اور فرمایا کہ ان کی نسل میں برکت دے۔پھر آپ اس نئے جوڑے کو اکیلا چھوڑ کر واپس تشریف لے آئے۔اس کے بعد ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ کے گھر تشریف لے گئے تو حضرت فاطمہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ حارثہ بن نعمان انصاری کے پاس چند ایک مکانات ہیں۔آپ ان سے فرما دیں کہ وہ اپنا کوئی مکان خالی کر دیں۔آپ نے فرما یاوہ ہماری خاطر اتنے مکانات پہلے ہی خالی کر چکے ہیں۔اب مجھے تو انہیں کہتے ہوئے شرم آتی ہے۔حارثہ کو کسی طرح اس کا علم ہوا تو وہ بھاگے آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔یارسول اللہ ! میر ا جو کچھ ہے وہ حضور کا ہے اور اللہ کی قسم ! جو چیز آپ مجھ سے قبول فرما لیتے ہیں وہ مجھے زیادہ خوشی پہنچاتی ہے بہ نسبت اس چیز کے جو میرے پاس رہتی ہے۔پھر اس مخلص صحابی نے باصر ار اپنا ایک مکان خالی کروا کے پیش کر دیا۔اور حضرت علی اور حضرت فاطمہ نے وہاں آکر رہائش اختیار کرلی۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 456) حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ حنین کے دن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تم میں سے کون رات کو پہرہ دے گا؟ اس پر حضرت حَارِثَه بن نُعمان آہستہ آہستہ اطمینان سے اٹھے۔حضرت حارثہ اپنے کسی بھی کام میں جلدی نہیں کیا کرتے تھے۔صحابہ نے ان کے اتنے آرام سے اٹھنے پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ حیا نے حارثہ کو خراب کر دیا ہے۔اس موقع پر جلدی اٹھنا چاہیے تھا۔اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا مت کہو کہ حیا نے حارثہ کو خراب کیا۔یہ نہ کہو کہ حارثہ کو خراب کیا بلکہ