خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 86
خطبات مسرور جلد 17 86 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 فروری 2019 دیتا۔پھر اس کے بعد جبرئیل نے کہا کہ یہ استی لوگوں میں سے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جبرئیل سے پوچھا کہ اس کے کیا معنی ہیں ؟ جس پر جبرئیل نے کہا کہ یہ ان استی آدمیوں میں سے ہیں جو غزوۂ حسنین میں آپ کے ساتھ ثابت قدم رہے تھے۔ان کا رزق اور ان کی اولاد کا رزق جنت میں اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حارثہ سے یہ سب کچھ بیان کیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بڑا عزت اور احترام کرتے تھے اور ان کے بارے میں یہ بھی روایت میں ہے، حضرت عائشہ نے کہا ہے کہ اپنی والدہ کے ساتھ بہترین سلوک کیا کرتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کی نیکی تم سب کو کرنی چاہیے۔حضرت حَارِثه بن نُعمان آخری عمر میں نابینا ہو گئے تھے۔نظر خراب ہو گئی۔بند ہو گئی تھی۔آپ نے ایک رسی اپنی نماز کی جگہ سے اپنے کمرے کے دروازے تک باندھی تھی اور اپنے پاس ایک ٹوکری رکھا کرتے تھے جس میں کھجوریں ہوتی تھیں۔جب کوئی مسکین آپ کے پاس آتا، کوئی سوالی آتا اور سلام کرتا یا ملنے والا آتا یا سمجھتے کہ یہ غریب آدمی ہے تو اس رستی کو پکڑ کر اپنی نماز کی جگہ سے دروازے تک آتے اور ان کو کھجوریں دیتے۔آپ کے گھر والے کہتے تھے کہ ہم آپ کی طرف سے یہ خدمت کر دیا کریں ، ہم دے دیتے ہیں۔آپ کی نظر ٹھیک نہیں۔کیوں تکلیف کرتے ہیں ؟ مگر آپ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مسکین کی مدد کرنا بری موت سے بچاتا ہے۔روایت میں ہے کہ حضرت حَارِثَه بن نُعمان کے مکانات مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکانات کے قریب تھے ، کافی مکان تھے ، جائیداد تھی اور حسب ضرورت حضرت حارثہ اپنے مکان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا کرتے تھے۔(الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 371-372 حارثه بن النعمان مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1990ء)(اسد الغابه جلد 1 صفحه 55-656 حارثه بن النعمان مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 2003ء) یعنی مستقل یا تو شادیوں کی صورت میں یا اور کسی ضرورت کے تحت، جب بھی رہائش کی ضرورت ہوتی تھی دے دیے بلکہ مستقل دیتے تھے۔جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرت فاطمہ سے شادی ہوئی تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ اپنے لیے کوئی الگ گھر تلاش کر لو۔حضرت علی نے گھر تلاش کیا اور وہیں حضرت فاطمہ کو بیاہ کر لے گئے۔پھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ سے کہا کہ میں تمہیں اپنے پاس بلانا چاہتا ہوں یعنی میرے قریب آجاؤ۔گھر لے لو۔حضرت فاطمہ نے آپ کو مشورہ دیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ آپ حارثہ بن نعمان سے فرمائیں کہ وہ کہیں اور منتقل ہو جائیں اور یہ جو گھر ان کا ہے وہ ہمیں دے دیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حارثہ ہمارے لیے کئی دفعہ منتقل ہو چکے ہیں۔ان کے گھر قریب ہیں وہ جو بھی قریبی گھر ہوتا ہے وہ چھوڑ کے مجھے دے دیتے ہیں۔اب مجھے شرم آتی ہے کہ اس سے دوبارہ منتقل ہونے کا کہوں۔یہ خبر حضرت حارثہ کو پہنچی اور آپ گھر خالی کر کے وہاں سے دوسری جگہ منتقل ہو گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر عرض کی کہ یارسول اللہ ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ حضرت فاطمہ کو اپنے پاس منتقل کرنا