خطبات مسرور (جلد 17۔ 2019ء) — Page 85
خطبات مسرور جلد 17 85 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 فروری 2019 حفصہ کے نکاح میں ایک تو یہ خاص مصلحت تھی کہ وہ حضرت عمر کی صاحبزادی تھیں جو گویا حضرت ابو بکر کے بعد تمام صحابہ میں افضل ترین سمجھے جاتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقربین خاص میں سے تھے۔پس آپس کے تعلقات کو زیادہ مضبوط کرنے اور حضرت عمرؓ اور حفصہ کے اس صدمہ کی تلافی کرنے کے واسطے جو خُنيس بن حذافہ کی بے وقت موت سے ان کو پہنچا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مناسب سمجھا کہ حفصہ سے خود شادی فرمالیں۔(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ 477-478) ایک روایت کے مطابق حضرت خُنَيْس بن حذافہ کو غزوہ اُحد میں کچھ زخم آئے۔بعد میں انہی زخموں کی وجہ سے آپ کی مدینہ میں وفات ہوئی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کو جنت البقیع میں حضرت عثمان بن مظعون کے پہلو میں دفن کیا گیا۔(استیعاب جلد 2 صفحه 452 خنيس بن حذافة مطبوعة دار الجيل بيروت 1992ء) الطبقات الكبرى جلد 3 صفحه 300 خنيس بن حذافة مطبوعة دار الكتب العلميه بيروت 1990ء) اگلے صحابی جن کا ذکر ہے ان کا نام حضرت حَارِثَه بن نُعمان ہے۔ان کی کنیت ابو عبد اللہ تھی۔حضرت حارثہ بن نعمان انصاری صحابی تھے۔ان کا تعلق قبیلہ خزرج کی شاخ بنو نجار سے تھا۔آپ غزوہ بدر، احد، خندق اور دیگر تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل تھے۔ان کا شمار بڑے جلیل القدر صحابہ میں ہوتا ہے۔حضرت حارثہ کی والدہ کا نام جَعْدَا بِنْتِ عُبَيْد تھا۔حضرت حَارِثَه بن نُعمان کی اولاد میں عبد اللہ ، عبد الرحمن، سوده، عُمرہ اور اُم ہشام شامل ہیں۔ان کے بچوں کی والدہ کا نام اقر خالد تھا۔آپ کی دیگر اولاد میں اُم کلثوم جن کی والدہ بنو عبد اللہ بن غَطفان میں سے تھی اور امۃ اللہ ان کی والدہ جندع میں سے تھیں۔ایک دوسری روایت ہے اس میں آتا ہے کہ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ یہ حضرت حارثہ بن نُعمان آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے۔آپ کے پاس جبرئیل بیٹھے تھے۔ایک اور روایت پہلے تھی وہ روایت مختصر سی یوں تھی کہ آپ گزرے تو آپ نے سلام کیا اور جبرئیل نے 'وعلیکم السلام کہا لیکن جو تفصیلی روایت ہے وہ یہ ہے کہ حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ حضرت حارثہ بن نُعمان آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے۔آپ کے پاس جبرئیل بیٹھے تھے اور آپ ان سے آہستہ آہستہ کچھ باتیں کر رہے تھے۔حارثہ نے آپ کو سلام نہیں کیا۔جبرئیل نے کہا کہ انہوں نے سلام کیوں نہیں کیا؟ تور سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں حارثہ سے دریافت فرمایا کہ جب تم گزر رہے تھے تو تم نے سلام کیوں نہیں کیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کے پاس ایک شخص کو دیکھا تھا۔آپ ان سے آہستہ آہستہ کچھ باتیں کر رہے تھے۔میں نے ناپسند کیا کہ میں آپ کی بات کو قطع کروں یعنی سلام کر کے پھر آپ کی توجہ پھیروں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم نے اس شخص کو دیکھ لیا تھا جو میرے پاس بیٹھا تھا؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔تو آپ نے فرمایا کہ وہ جبرئیل تھے اور وہ کہتے تھے کہ اگر یہ شخص سلام کرتا تو میں اس شخص کو جواب