خطبات مسرور (جلد 16۔ 2018ء) — Page 241
خطبات مسرور جلد 16 241 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 مئی 2018 ہوتی ہیں۔یعنی نماز سے حاصل ہوتی ہیں پھر آپ نے فرمایا اور نہ اس بیعت کا کچھ فائدہ حاصل ہو گا جو تم نے میری کی ہے۔پس یہ ہے وہ معیار جو ہمیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شرک سے بچو۔اس بارے میں ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت میں شرک کا خدشہ تھا۔چنانچہ ایک حدیث ہے کہ عبادہ بن نسی نے ہمیں شداد بن اوس کے بارے میں بتایا کہ وہ رورہے تھے۔ان سے پوچھا گیا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ اس پر انہوں نے کہا کہ مجھے ایک ایسی چیز یاد آگئی تھی جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی اس پر مجھے رونا آگیا۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اپنی امت کے بارے میں شرک اور مخفی خواہشوں سے ڈرتا ہوں۔راوی کہتے ہیں میں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ کی امت آپ کے بعد شرک میں مبتلا ہو جائے گی ؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔البتہ میری امت شمس و قمر ، بتوں اور پتھروں کی عبادت تو نہیں کرے گی مگر اپنے اعمال میں ریا سے کام لے گی۔( ان کے اپنے عمل میں دھو کہ ہو گا۔بناوٹ ہو گی۔تصنع ہو گا اور مخفی خواہشات میں لوگ مبتلا ہو جائیں گے۔اگر ان میں سے کوئی روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کرے گا پھر اس کی کوئی خواہش معارض ہو گی تو وہ روزہ ترک کر کے اس خواہش میں مبتلا ہو جائے گا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحہ 835 حدیث 17250 مسند شداد بن اوس مطبوعه عالم الكتب بيروت 1998ء) روزہ کی پر واہ نہیں کرے گا۔ظاہر اروزہ ہو گا۔پچھلی دفعہ بھی میں نے واقعہ سنایا تھا کہ اماں ابا کے لئے ہم روزہ رکھ لیتے ہیں لیکن دو پہر کو جا کر بازار سے کھانا کھا لیا اور پھر شام کو بڑے اہتمام سے گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر افطاری کر رہے ہیں جس طرح سارا دن کے ہم ہی سب سے بڑے روزہ دار ہیں۔تو یہ بعض لوگوں کا حال ہے۔یہاں کے اخباروں نے اپنا ایک آرٹیکل لکھا اور اس میں بیان بھی کیا تھا جیسا کہ گزشتہ ہفتہ میں نے بتایا تھا۔پس بڑے ہی خوف کا مقام ہے۔اگر ہم گہرائی سے اپنا جائزہ لیں تو شرک خفی کی کئی مثالیں نظر آئیں گی۔ہماری نمازیں بھی بعض دفعہ اپنی خواہشات کی پیروی کی وجہ سے چھوٹ جاتی ہیں اور ہمارے روزے بھی دنیاوی عذروں کی نظر ہو جاتے ہیں یا چھوٹ جاتے ہیں۔مجھے ایک جوان ملا کہنے لگا کیونکہ میں پیزے کا کاروبار کرتا ہوں اور پیزا بناتے ہوئے چکھنا پڑتا ہے اس لئے میں روزہ نہیں رکھتا یا کچھ روزے چھوڑ دیتا ہوں۔اس پر صرف انا للہ ہی پڑھا جا سکتا ہے کہ ہم احمدی ہو کر ایسی حرکتیں کریں۔اسے تو پتہ نہیں کچھ احساس ہوا یا نہیں لیکن بعض ایسے لوگوں کی باتیں سن کے مجھے بہر حال شرمندگی ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے انعام کو حاصل کرنے کا دعویٰ تو ہے لیکن اگر اس کے احکام سے دوری ہے تو پھر یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :" خدا نے قرآن میں فرمایا وَ يَغْفِرُ مَا دُونَ ذلك (النساء: 49) یعنی ہر ایک گناہ کی مغفرت ہو گی۔پوری آیت ہے لیکن آپ نے ایک فقرہ بولا اور فرمایا کہ "مگر شرک کو خدا نہیں بخشے گا۔پس شرک کے نزدیک مت جاؤ اور اس کو حرمت کا درخت سمجھو۔" (تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 323-324 حاشیہ)