صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 92
صحیح البخاری جلد ۹ ۹۲ ۶۴ - کتاب المغازی فَقَالَ قَدْ نَهَيْتُهُنَّ وَذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يُطِعْنَهُ دے۔ یحی بن سعید ) کہتے تھے۔ وہ شخص چلا گیا۔ قَالَ فَأَمَرَ أَيْضًا فَذَهَبَ ثُمَّ أَتَى فَقَالَ پھر کچھ دیر کے بعد آیا اور کہنے لگا: میں نے ان کو وَاللَّهِ لَقَدْ غَلَبْنَنَا فَزَعَمَتْ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ روک دیا تھا اور اس نے بیان کیا کہ انہوں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَاحْتُ فِي اس کی بات نہیں مانی کہتے تھے کہ آپ نے اس أَفْوَاهِهِنَّ مِنَ التَّرَابِ قَالَتْ عَائِشَةُ کو پھر ویسے ہی فرمایا: وہ گیا اور پھر آیا۔ کہنے لگا: اللہ کی قسم! ہم کو تو ان عورتوں نے عاجز کر دیا فَقُلْتُ أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَكَ فَوَاللَّهِ مَا أَنْتَ تَفْعَلُ وَمَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللهِ ہے۔ حضرت عائشہ کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے منہ میں مٹی ڈال۔ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَنَاءِ۔ اطرافه: ۱۲۹۹، ۱۳۰۵ حضرت عائشہ کہتی تھیں: میں نے کہا: اللہ تیرا بھلا کرے۔ نہ تم بخدا (عورتوں کو) روک سکے اور نہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینے سے باز رہے۔ ٤٢٦٤ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ۴۲۶۴ : محمد بن ابی بکر نے مجھ سے بیان کیا کہ عمر حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيّ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بن علی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل بن بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ قَالَ كَانَ ابی خالد سے، اسماعیل نے عامر (شعی) سے روایت ابْنُ عُمَرَ إِذَا حَيًّا ابْنَ جَعْفَرٍ قَالَ کی۔ انہوں نے کہا: (حضرت عبداللہ ) بن عمر السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ ذِي الْجَنَاحَيْنِ۔ جب (عبد اللہ بن جعفر کو سلام کرتے تو یہ کہتے : اے دو پنکھ والے کے بیٹے، تم پر سلامتی ہو۔ طرفه: ۳۷۰۹ ٤٢٦٥: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ۴۲۶۵: ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسِ بْنِ (ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل (بن أَبِي حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ خَالِدَ بْنَ الى خالد ) سے، اسماعیل نے قیس بن ابی حازم سے الْوَلِيدِ يَقُولُ لَقَدِ انْقَطَعَتْ فِي يَدِي روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت خالد ا فتح الباری مطبوعه انصاریہ میں اس جگہ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ہے۔ ( فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۶۴۵)