صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 82
صحیح البخاری جلد ۹ ۸۲ ۶۴ - کتاب المغازی کے امن کو مسلسل خطرہ میں ڈالا ہوا تھا۔ اس لئے ان قبائل کی سرکوبی از بس ضروری تھی۔ حضرت زید بن حارثہ کی مشار الیہ مہم اس تعلق میں آخری میخ تھی۔ مغازی کی مشار الیہا روایات چونکہ امام بخاری کے میعار و شرائط صحت پر نہیں اس لئے وہ نظر انداز کی گئی ہیں اور اس باب کی روایت میں ان کا ذکر مجملا ہے۔ بَاب ٤٣ : عُمْرَةُ الْقَضَاءِ عمرة قضاء ذَكَرَهُ أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ ۔ حضرت انس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے اس کا ذکر کیا۔ ٤٢٥١ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ ۴۲۵۱ : عبید اللہ بن موسیٰ نے مجھے بتایا۔ انہوں مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابواسحاق سے، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا انہوں نے حضرت براء بن عازب ) تھا اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ ہم نے الله رضی عنہ سے فِي ذِي الْقَعْدَةِ فَأَبَى أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ ذی القعدہ میں عمرہ کرنے کا ارادہ کیا تو اہل مکہ نے اس بات سے انکار کیا کہ آپ کو مکہ میں داخل يَدَعُوهُ يَدْخُلُ مَكَّةَ حَتَّى قَاضَاهُمْ ہونے دیں۔ آخر آپ نے ان سے اس شرط پر صلح عَلَى أَنْ يُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا کی کہ آپ (آئندہ سال عمرہ کو آئیں گے اور یہاں كَتَبُوا الْكِتَابَ كَتَبُوا هَذَا مَا قَاضَى (مکہ میں تین دن تک ٹھہریں گے۔ جب صلح نامہ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ قَالُوْا لَا نُقِرُّ لکھنے لگے تو یوں لکھا کہ یہ وہ شرطیں ہیں جن پر محمد لَكَ بِهَذَا لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُوْلُ اللهِ رسول الله (صلی ال) نے صلح کی۔ (مکہ والے) کہنے علوم مَا مَنَعْنَاكَ شَيْئًا وَلَكِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ لگے : ہم اس (مقام) کو نہیں مانتے۔ اگر ہم جانتے بْنُ عَبْدِ اللهِ فَقَالَ أَنَا رَسُولُ اللهِ کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، آپؐ کو بھی نہ رو روکتے۔ الله سلام بلکہ آپ محمد بن عبد اللہ ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: میں وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ لِعَلِی اللہ کا رسول بھی ہوں اور محمد بن عبد الله اور محمد بن عبد اللہ بھی۔ آپ امْحُ رَسُوْلَ اللهِ قَالَ عَلِيٌّ لَا وَاللَّهِ نے حضرت علیؓ سے فرمایا: ”رسول اللہ کا لفظ مٹا دو۔ لَا أَمْحُوكَ أَبَدًا فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ حضرت علی نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم میں آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِتَابَ وَلَيْسَ (کے خطاب) کو کبھی نہیں مٹاؤں گا۔ رسول اللہ صلی الیوم