صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 34
صحیح البخاری جلد ۹ لله ۶۴ - کتاب المغازی إِنْكَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللهُ بِهِ وَلَكِنَّا عظمت بیان کی اور بتایا جو کچھ انہوں نے کیا ہے، نَرَى لَنَا فِي هَذَا الْأَمْرِ نَصِيبًا فَاسْتَبَدَّ حضرت ابو بکر سے کسی قسم کے حسد نے اُن کو اس پر بر انگیختہ نہیں کیا تھا اور نہ اُن کی فضیلت کے انکار عَلَيْنَا فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا فَسُرَّ بِذَلِكَ کرنے کی وجہ نے جو اللہ نے حضرت ابو بکر کو دی الْمُسْلِمُونَ وَقَالُوا أَصَبْتَ وَكَانَ ہے بلکہ ہم اس خلافت میں اپنا حصہ بھی سمجھتے تھے الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلِيّ قَرِيبًا حِينَ ہمیں چھوڑ کر یہ اکیلے ہی سنبھال بیٹھے۔ ہم نے اپنے دلوں میں تکلیف محسوس کی۔ ان کی اس بات سے مسلمان خوش ہو گئے اور کہنے لگے: بجا اور رَاجَعَ الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ ۔ درست کیا ہے اور مسلمان حضرت علیؓ سے اور بھی محبت کرنے لگے جب انہوں نے اچھی بات کی طرف رجوع کیا۔ أطراف الحديث ٤٢٤٠ : ۳۰۹۲ ، ۳۷۱۱ ، ۴۰۳۵ ، ۶۷۲۵۔ أطراف الحديث ٤٢٤١: ۳۰۹۳ ، ۳۷۱۲ ، ۴۰۳۶، ۶۷۲۶۔ ٤٢٤٢ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ۴۲۴۲: محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ حرمی حَدَّثَنِي حَرَمِيٌّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ ( بن عمارہ) نے مجھے بتایا کہ شعبہ (بن حجاج) نے أَخْبَرَنِي عُمَارَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ عَائِشَةَ ہم سے بیان کیا، کہا: عمارہ ( بن ابی حفصہ ) نے مجھے رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا فُتِحَتْ بتایا۔ انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: خَيْبَرُ قُلْنَا الْآنَ نَشْبَعُ مِنَ التَّمْرِ۔ جب خیبر فتح ہوا تو ہم نے کہا: اب کھجوروں کو پیٹ بھر کے کھائیں گے۔ ٤٢٤٣ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا قُرَّةُ ۴۲۴۳ : حسن بن محمد بن صباح) نے ہمیں نے ہمیں بتایا کہ بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قره بن حبیب نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الرحمن بن عبد اللہ بن دینار نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ سے ، انہوں نے حضرت (عبد الله ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَا شَبِعْنَا حَتَّى اپنے باپ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا فَتَحْنَا خَيْبَرَ۔ کہ ہم نے اس وقت تک کہ خیبر کو فتح کیا پیٹ بھر کر نہیں کھایا۔